کافر کون؟ — Page 119
119 جانب 1953ء کے عظیم تر ہنگامے کے باوجود قادیانی جماعت اس کوشش میں ہے کہ اس کا 1956-57ء کا بجٹ 25 لاکھ روپیہ کا ہو۔1953ء کے وسیع ترین فسادات کے بعد جن لوگوں کو یہ وہم لاحق ہو گیا ہے کہ قادیانیت ختم ہو گئی یا اس کی ترقی رک گئی انہیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ پاکستان میں پہلی مرتبہ بلدیاتی اداروں میں بلکہ ( بعض اطلاعات کی بناء پر مغربی پاکستان اسمبلی میں قادیانی ممبر منتخب کئے گئے ہیں“۔(المنير 23 فروری 1956ء صفحہ 10 ) پہاڑوں جیسے علماء ہونے کے باوجود ہم ہار گئے یہی جانکاری میری 18 ویں مشکل بن گئی۔مشکل نمبر 19 آخری حل ہاں اب ہم مذہبی دلائل کی بجائے سیاسی مار ماریں گے 90 سال بعد جماعت احمدیہ کی حیرت انگیز ترقیات، وسیع ترین تبلیغی نظام، خدا کی راہ میں بے تحاشا خرچ کرنے والے نفوس ، مضبوط ترین دلائل اور بے لوث کارکنان کے آگے بند باندھنا بہت اہمیت اختیار کر گیا تھا۔تب اس وقت کے علماء دین نے ہمت کر کے وطن عزیز کے وزیر اعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو کو مجبور کر دیا کہ قادیانی جماعت کو دائرہ اسلام سے ہی خارج قرار دے دیا جائے گویا ” نہ رہے بانس نہ بجے بانسری“ دائرہ اسلام سے خارج قرار دینے کے نعرے کے ساتھ ہی جو پہلی بڑی گلے میں اٹکتی محسوس ہوئی کہ آخر کس بات کو بنیاد بنایا جائے؟ قرآن و سنت و حدیث سمیت ایمان مجمل اور ایمان مفصل سمیت جماعت احمد یہ اسلام کی ہر ہر جزئیات پر پورے صدق دل سے ایمان رکھتی ہے اور عمل پیرا ہے اور ختم نبوت کے معانی و تشریح میں بھی ہمارے ہی بزرگوں کے مسلک پر ہے تو پھر آخر کیا کیا جائے؟ شاید زندگی میں ایسا موقع پھر ہاتھ نہ آئے۔تو آخر کیا کیا جائے؟ آخر کیا کیا جائے اور وقت کی کمی نے ایک نیا فلسفہ ضرورت پیدا کیا ٹھیک اسی لمحے علم کلام نے ایک نیا موڑ لیا۔روشیں بدل دی گئیں اور نیا اسلحہ زیب تن کر کے جنگ کو بالکل نئے محاذ کی طرف موڑ دیا گیا۔وو تاریخ کے ایسے ہی نازک لمحوں کی کہانی اس تنظیم کے اپنے آرگن کی زبانی سنیے : ” جب حجۃ الاسلام حضرت علامہ انورشاہ صاحب کشمیری حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی صاحب اور حضرت مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری وغیرہ ہم مرحمہم اللہ کے علمی اسلحہ فرنگی کی اس کاشتہ و داشتہ نبوت کو موت کے گھاٹ نہ اتار سکے تو مجلس احرار اسلام کے مفکر اکابر نے جنگ کا رخ بدل دیا۔نئے ہتھیار لئے اور علمی بحث و نظر کے