جوئے شیریں — Page 93
۹۴ راه میتوانید انا رحت من مصل الا الم را بستم بدرگاه ذی شان خیر الانام شفیع الوری مرجع خاص و عام بعد میجز دوشنت بصد احترام یہ کرتا ہے عرض آپ کا اک نظام کہ اسے شاہ کونین عالی مقام عَلَيْكَ الصَّلاةُ عَلَيْكَ السَّلام حسینان عالم ہوئے شر کیں جو دیکھا وہ مشن اور وہ گھر نہیں پھر اس پر وہ اخلاق اکمل تریں کہ دشمن بھی کہنے لگے اتریں زہے مخلق المکمل زبجے شین تام عَلَيْكَ الصَّلوةُ عَلَيْكَ السلام خلائق کے دل تھے یقیں سے تہی بتوں نے بھی حق کی جگہ گھیر لی ضلالت تھی دنیا پہ وہ چھارہی کہ تو جب ڈھونڈے سے ملتی نہ تھی ہوا آپ کے دم سے اس کا قیام عَلَيْكَ الصَّلوةُ عَلَيْكَ السَّلام