جوئے شیریں — Page 89
فی آمَانِ الله ربعی کی تقری مستانہ پر لو جاؤ تم کو سایہ رحمت نصیب ہو پڑھتی ہوئی خدا کی عنایت نصیب ہو سپر ایک زندگی کی حلاوت نصیب ہو ہر ایک دو جہان کی نعمت نصیب ہو علم وعمل نصیب ہو عرفان نصیب ہو ذوقی دُعا وحسن عبادت نصیب ہو محمود عاقبت ہو رہے زیست با مراد خوشیاں نصیب عزت و دوای نصیب ہو پور شک آفتاب استاد نصیب کا آپ اپنی ہو مثال در قسمت نصیب ہو ہرا ایک دکھہ سے تم کو بچائے مرا خدا ہر ہر قدم پہ اس کی اعانت نصیب ہو ہر وقت دل میں پیار سے یاد نہ رہے یہ نعمت و سرور یہ جنت نصیب ہو اقبال تاج سر ہو ترے سکے تاج کا اس کو خُدا و خلق کی خدمت نصیب ہو میں تمہاری گود سے پہل کر وہ حق پرست ہاتھوں سے جن کے دین کی موت نصیب ہو اضی ہوں تم سے ہیں مر اللہ بھی رہے اس کی رضا کی تم کو مسرت نصیب ہو راحت ہی میں نے تم سے بہر طور پائی ہے تم کو بھی دو جہان میں راحت نصیب ہو حافظ خدا رہا۔میں رہی آج تک امیں جس کی تھی اب اُسے یہ امانت نصیب ہو