جوئے شیریں — Page 69
آج کی رات ربوہ میں ۲۷ ر رمضان المبارک کی رات کے روح آفریں مناظر سے متاثر ہو کر) ذکر سے بھر گئی ربوہ کی زمیں آج کی رات اُتر آیا ہے خُداوند یہیں آج کی رات شہر جنت کے ملا کرتے تھے طعنے جس کو بن گیا واقعت خُلدِ بریں آج کی رات وا در گریده انشا دیده و دل، کب آزاد کیں مرنے میں ہیں ترے خاک نشیں آج کی رات کوچے کوچے میں کیا شور متى نصر الله اجر تم نصرت باری ہے قریب آج کی رات جانے کس فکر میں غلطاں ہے میرا کا فیرگر ادھر اک بار جو آنکلے کہیں آج کی رات غیر مسلم کیسے کہتے ہیں۔اُسے دکھلائے ایک ایک کین ربوہ کی جبیں آج کی رات گاز نیلید و دجال بلا سے ہوں مگر تیرے عشاق کوئی ہیں تو ہمیں آج کی رات آنکھ اپنی ہی تیرے عشق میں ٹپکاتی ہے وہ لہو جس کا کوئی مول نہیں، آج کی رات دیکھ اس درجہ غم ہجر میں روتے روتے مر نہ جائیں تیرے دیوانے کہیں آج کی رات جن پہ گزری ہے وہی جانتے ہیں۔غیروں کو کیسے بتلائیں کہ متھی کتنی حسیں آج کی رات کاش اتر آئیں یہ اُڑتے ہوئے سیمیں لمحات کاش یوں ہو کہ ٹھہر جاتے ہیں آج کی رات