جوئے شیریں — Page 84
AD وہ رحمت عالم آتا ہے تیرا حامی ہو جاتا ہے تو بھی انسان کہلاتی ہے سب حق تیرے دلواتا ہے بھیج درود اس محسن پر تو دن میں سو سو بار ! پاک محمد مصطفے نبیوں کا سردار اللہ تعالیٰ کے حضور اسے محسن و محبوب قمر اے میرے پیارے اے قوت جاں اے دل محزوں کے سہارے اے شاہ جہاں نور زماں خالق باری پر قیمت کو نہیں ترے نام پہ واری یارا نہیں پاتی ہے زبان شکر وشنا کا احسان سے بندوں کو دیا اون دعا کا کیا کرتے جو حاصل یہ وسیلہ بھی نہ ہوتا یہ آپنے دو باتوں کا جیلہ بھی نہ ہوتا تسکینی دل وراحت جاں ہی ہیں درسکتی آدمہ تھانہ سے اماں مل ہی دسکتی پروا نہیں باقی ہو بے شک کوئی چالا کافی ہے ترے دامن رحمت کا سہارا مایوس کبھی تیرے سوالی نہیں پھر تے بندے توکی درگاہ سے خالی نہیں پھرتے الک ہے جو تو چاہے تو مردوں کو جلا دے اے قادر مطلق مرے پیاروں کو شفا دے