جوئے شیریں

by Other Authors

Page 83 of 107

جوئے شیریں — Page 83

پاک محمد مصطفے نبیوں کا سردار رکھ پیش نظر وہ وقت بہن جب زندہ گاڑی جاتی تھی گھر کی دیواریں روتی تھیں جب دُنیا میں تو آتی تھی جب باپ کی جھوٹی غیرت کا خون جوش میں آنے لگتا تھا جس طرح جنا ہے سانپ کوئی کیوں ماں تیری گھبراتی تھی یہ خون جگر سے پالنے والے تیرا خون بہاتے تھے جو نفرت تیری ذات سے تھی فطرت پر غالب آتی تھی کیا تیری قدر وقیمت تھی ؟ کچھ سوچ تری کیا عزت تھی تھا موت سے بدتر وہ جینا قسمت سے اگر پیچ جاتی تھی تھا صورت ہونا سخت خطا تھے تجھ پہ سارے خبر روا یه حروم نہ بخشا جاتا تھا تا مرگ سزائیں پاتی تھی گویا تو کنکر پتھر بھی احساس نہ تھا جذبات نہ تھے تو ہین وہ اپنی یاد تو کر ! ترکہ میں بانٹی جاتی تھی