جوئے شیریں

by Other Authors

Page 19 of 107

جوئے شیریں — Page 19

14 ہم ہوئے غیر اہم تجہ سے ہی اے خیر ارسال تیرے بڑھنے سے قدم آگے بڑھایا ہم نے آدمی زاد تو کیا چیز فرشتے بھی تمام مرچ میں تیری وہ گاتے ہیں ہو گا یا ہم نے قوم کے ظلم سے تنگ آ کے مرے پیارے آج شور محشر ترے کوچہ میں چھایا ہم نے ہمارے عقائد ہم تو رکھتے ہیں مسلمانوں کا دیں دل سے ہیں خدام ختم المرسلین شرک اور بدعت سے ہم بیزار ہیں خاک راه احمد مختار ہیں سارے حکموں پر تمہیں ایمان ہے جان و دل اس راہ پر قربان ہے دے چکے دل اب تنِ خاکی رہا ہے یہی خواہش کہ ہو وہ بھی خدا