جوئے شیریں — Page 18
مصطفے پر تیرا بے حد ہو سلام اور رحمت اُس سے یہ نور لیا بار خدا یا ہم نے ربط ہے جان محمد سے میری جاں کو مرام دل کو وہ جام لبالب ہے پلایا ہم نے اس سے بہتر نظر آیا نہ کوئی عالم میں لاجرم غیروں سے دل اپنا چھڑا یا ہم نے تیرے منہ کی ہی قسم میرے پیارے احمد تیری خاطر سے یہ سب بار اٹھایا ہم نے شان حق تیرے شمائل میں نظر آتی ہے تیرے پانے سے ہی اس ذات کو پایا ہم نے چھو کے دامن ترا ہر کام سے ملتی ہے ہوتے لا حرم در پہ ترے سر کو جھکایا ہم نے دلبرا مجھ کو قسم ہے تیری یکتائی کی آپ کو تیری محبت میں بھلایا ہم نے