جذبۃ الحق

by Other Authors

Page 54 of 63

جذبۃ الحق — Page 54

54 ہے۔یہ موم کی ناک ہوتی ہے لکھنے والا جدھر پھیرنا چاہتا ہے ادھر ہی پھرتی ہے اس پر بھی وہ نہ رکا۔اس فتویٰ کے عنوان پر یہ سوال لکھا ہوا تھا کہ مرزا قادیانی اور اس کے اتباع مسلمان ہیں یا کافر۔یہ سنکر مجھے بھی کچھ غیظ آگیا۔اور میں اس سے کہنے لگا۔کہ سنتے تو سہی۔آپ نے تو مرزا صاحب کے خلاف ابتداء ہی سے لکھنا شروع کیا تھا۔لیکن اس فتویٰ نویسی کا نتیجہ کیا ہوا۔یہی کہ آپ فتوے لکھتے لکھتے نیچے کی طرف جا رہے ہیں اور مرزا صاحب بلندی کی طرف صعود کر رہے ہیں۔پھر بھی آپ کا فتویٰ لکھنے کا شوق کم نہیں ہو تا۔کیا یہ فتویٰ آپ نے لکھا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں نے نہیں لکھا۔بلکہ دیو بند کے کسی مدرس نے لکھا ہے جب میں نے اس مدرس کا نام پوچھا تو نام نہ بتایا پھر میں نے کہا کہ دیو بندیوں اور وہابیوں کے خلاف عرب و عجم سے آئے ہوئے مطبوعہ فتاوی بکثرت میرے پاس موجود ہیں۔آپ ان سب کا کیا جواب دیتے ہیں۔اور کس بے غیرتی سے آپ مرزا صاحب کے خلاف فتویٰ لکھتے ہیں آپ کو شرم نہیں آتی۔اگر کوئی پوچھے کہ نذیر حسین وہابی اور اس کے اتباع مسلمان ہیں یا کافر۔تو آپ اس کا کیا جواب دیں گے۔تب مبہوت سا ہو رہا۔اس وقت میں نے کہا آپ ذرا خیال تو کریں کہ آپ کیا سے کیا ہو گئے ؟ اتنے میں شملہ کے ایک معزز احمدی جو وہاں موجود تھے مجھ سے مخاطب ہو کر کہنے لگے کہ جناب مولوی صاحب سیہ بٹالوی صاحب اگلے دنوں جب شملہ جاتے تو اسٹیشن پر لوگ استقبال کے لئے جاتے تھے۔مگر اس دن کی بات ہے کہ جب یہ ہمارے شہر میں پھر گئے تو کسی نے آنکھ اٹھا کر بھی ان کی طرف نہ دیکھا یہاں تک کہ بیٹھنے کی جگہ بھی نہ دی۔آخر اپنا پا سجامہ ایک جگہ بچھا کر بیٹھ گئے۔المختصر ان سب باتوں سے مولوی محمد حسین کو بھی کچھ غیظ آگیا اور غصہ ہو کر