جذبۃ الحق — Page 53
53 حوالہ کیں اور واپس آنا چاہا۔مگر وہ انہیں چھوڑنا نہیں چاہتے تھے اور قادیان کی کچھ باتیں پوچھنے لگے۔اول تو یہ پو چھا کہ مولوی صاحب کہاں ہیں۔جس کا مولوی امداد علی نے وہی جواب دیا جو میں نے کہہ دیا تھا۔پھر پوچھا کہ آپ سب احمدی ہوئے یا محمدی رہے۔انہوں نے صاف کہدیا کہ احمدی ہو گئے ہیں دعا کیجئے گا۔یہ کہہ کر مولوی امداد علی به مجلت تمام چلے آئے۔اور ہمارے ساتھ اری میں بیٹھ گئے۔اس کے بعد ہم اسٹیشن بٹالہ پہنچے۔اور ظہر کی نماز ادا کی۔اتنے میں ایک احمدی بھائی نے کہا کہ عصر کی نماز گاڑی پر پڑھنی مشکل ہو گی۔بہتر ہے کہ ظہر کے ساتھ عصر کی نماز جمع کرلی جاوے۔لہذا ہم سب احمدیوں نے جو وہاں جمع ہو گئے تھے عصر کی نماز بھی پڑھ لی۔نماز ادا کر لینے کے بعد اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر مل رہا تھا کہ دیکھا گیا ہوں کہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی دو میل کا فاصلہ پا پیادہ طے کر کے آیا اور السلام علیکم کہہ کر مجھ سے کہنے لگا واہ مولوی صاحب! آپ مجھ سے ملاقات تک نہ کر کے آئے۔میں نے اس کا وہی جواب دیا جو مولوی امداد علی نے دیا تھا۔کیونکہ فی الواقع میری طبیعت اس دن ایسی خراب تھی کہ بات کرنے کو جی نہ چاہتا تھا۔پھر مولوی محمد حسین مجھ سے پوچھنے لگا۔کہ قادیان میں آپ نے کیا دیکھا۔میں نے کہا کہ قادیان کوئی نمائش گاه یا تماشا کی جگہ تو ہے نہیں۔ہاں بہت دنوں سے میں اس سلسلہ کے متعلق غور کر رہا تھا قادیان جا کر پندرہ دن تک رہنے اور جناب مولوی نور الدین صاحب سے بات چیت کرنے سے میرے جو شبہات تھے وہ سب دور ہو گئے اور شرح صدر حاصل ہو گیا۔پس میں نے بیعت کرلی ہے میرے اتنا کہنے پر مولوی محمد حسین نے اپنی جیب سے ایک قلمی فتوئی نکالا اور پڑھ کر مجھے سنانے لگا۔ہر چند میں نے منع کیا کہ میں اسے سننا نہیں چاہتا کیونکہ مجھے بھی فتویٰ بہت لکھنا آتا