جذبۃ الحق — Page 52
52 کو پسند نہ کیا اور فرمایا۔کہ اگر آپ ایسا کریں گے تو گنہگار ہوں گے۔کیونکہ اللہ تعالٰی نے ہر یک انسان کے رزق کے لئے ایک نہ ایک صورت لگا دی ہے۔اگر اپنے ہاتھ سے اس کو توڑیں گے تو اللہ تعالٰی آپ سے ناراض ہو گا۔اور اپنے رزق کی صورت خود آپ کو کرنی پڑے گی۔اور آپ تکلیف میں پڑیں گے۔ہاں اگر نوکریاں آپ کی از خود چلی جائیں۔تو اللہ تعالیٰ دوسری صورت پیدا کر خدا گر حکمت بندد کرم دیگرے الغرض حضرت مولوی صاحب کے فرمانے کے مطابق میں نے اپنی نوکریوں کو نہ چھوڑا اور یونہی ہو کر قادیان سے بٹالہ کے سٹیشن کی طرف روانہ ہوا۔چونکہ یکہ میں بہت تکان ہوتی ہے اس لئے ایک نم نم کرایہ کر کے چلا تھا اور ثم ثم والے سے کہدیا تھا کہ جب مولوی محمد حسین کے مکان کے قریب پہنچے تو ضرور مجھے مطلع کرے جب ہم ٹالہ پہنچے اور کچھ دور آگئے تو گاڑی والے نے کہا کہ آپ لوگ جس مولوی صاحب کا مکان تلاش کرتے ہیں ان کا مکان یہی ہے۔تب میں نے تم تم کھڑا کرایا اور مولوی محمد حسین کے سارے رسالے اپنے ہمرا ہی امداد علی کو دے کر کہا کہ ان کو واپس دے کر جلد چلے آویں۔ہم لوگ آگے بڑھتے ہیں۔اگر مولوی محمد حسین میری بابت پوچھے تو کہد دینا کہ وہ سٹیشن پر چلے گئے ان کی طبیعت اچھی نہیں ہے۔کیونکہ قادیان میں ان کو بخار ہو گیا تھا۔مولوی امداد علی نے وہاں جا کر دیکھا کہ مولوی محمد حسین مسجد میں نماز ظہر پڑھ رہے ہیں۔تھوڑی دیر توقف کرنے پر جب انہوں نے نماز ختم کی۔تب مولوی امداد علی نے کتا ہیں ان کے ور الدین صاحب خلیفتہ المسیح سے رخصت