جذبۃ الحق — Page 51
51 پس اس وقت کچھ مختصری باتیں ہوئیں اتنے میں عصر کی نماز کے لئے اذان ہوئی۔اور مسجد مبارک میں نماز عصر پڑھی پھر مہمان خانہ میں جہاں جگہ ملی تھی۔وہاں اپنے ونیز ہمراہیوں کے لئے بسترہ وغیرہ ٹھیک کیا۔الغرض حضرت مولانا نورالدین صاحب سے پندرہ دن تک گفتگو ہوتی رہی۔مگر اس طرح نہیں جس طرح غیر احمدی مخالف مولویوں سے گفتگو ہوئی تھی۔بلکہ میں جن شبہات کو نوٹ کر کے لے گیا تھا۔انہیں باتوں کو پیش کر کے جواب حاصل کیا۔جس سے مجھے اطمینان کلی حاصل ہو گیا۔اور قادیان کے۔باشندوں کے حالات پر میں نے بھی بہت ہی غور و تدبر سے نگاہ کی بالآخر بفضل التی اس سلسلہ کی صداقت پر مجھے شرح صدر حاصل ہو گیا اور پھر کچھ تردد باقی نہ رہا۔پس مزید توقف میں نے مناسب نہ جانا۔اور ایک دن بعد نماز جمعہ میں نے مع اپنے ہمراہیوں کے حضرت خلیفہ اول کے ہاتھ پر بیعت کرلی اور شکر الہی بجا لایا که NANGANGUAGE لِلَّهِ الَّذِى هَدْنَا لِهَذَا وَمَا كُنَّا لِمُهْتَدِي لَوْلا أَنْ هَدَنَا اللهُ (اعراف ع (۵) بعد اس کے جب وطن کی طرف لوٹنے کا ارادہ کیا تب مجھے خیال ہوا کہ وطن پہنچنے پر تو ضرور سنت اللہ کے مطابق ہماری سخت مخالفت ہو گی۔اور میری دو نوکریاں ہیں ایک تو برہمن ہدیہ کے ہائی سکول کے ہیڈ مولوی کا عہدہ۔دوسری قضا یعنی میرج رجساری کا عمدہ یہ دو نوکریاں گویا میرے دو پاؤں ہیں اور کتے جو آدمی کو کاٹتے ہیں تو اکثر دونوں پاؤں میں سے کسی میں کاٹتے ہیں۔پس مخالفین جو مجھ کو ضرر پہنچا دیں گے۔تو انسی دونوں نوکریوں کے ذریعہ کیونکہ اسی میں زیادہ تر ان کا قابو ہے۔پس بہتر ہے کہ مقام برہمن بڑیہ میں داخل ہونے کے قبل ہی میں ان دونوں نوکریوں کو چھوڑ دوں تاکہ مخالفین مجھ پر قابو نہ پائیں۔یہ تجویز میں نے حضرت خلیفہ اول کے سامنے پیش کی۔آپ نے اس