جذبۃ الحق

by Other Authors

Page 20 of 63

جذبۃ الحق — Page 20

20 کیونکہ میں بالکل نہ جانتا تھا کہ قادیان بھی کوئی مقام ہے اور اس میں مرزا غلام احمد صاحب بھی کوئی شخص ہیں۔مگر صرف خشیت الہی سے اس قسم کی تحقیق و تفتیش میں مصروف تھا صرف یہی خیال تھا کہ اگر فی الواقع یہ شخص اللہ تعالٰی کی طرف سے ہے تو پروردگار عالم کے حضور جب جانا ہو گا تو کیا جواب دوں گا۔اسی خوف سے میری یہ حالت تھی کہ کسی قسم کی کوشش تحقیق و تفتیش کی میں نے باقی نہ چھوڑی تنھا بیٹھ کر بھی میں اس بارہ میں غور و فکر کرتا۔استخارہ وغیرہ بھی کرتا۔اگرچہ میں درپردہ تحقیق و تفتیش میں لگا تھا پھر بھی میری شکایت اطراف و جوانب میں پھیلنے لگی۔شریر لوگ یوں تو کچھ نہ کر سکتے تھے لیکن ہر سال عیدین کے موقعہ پر میری شکایت کرتے پھرتے اور اشرار و نابکار لوگوں کو مجھ سے بدظن کرتے تاکہ میں عید گاہ میں عید کی نماز کی امامت نہ کر سکوں حالانکہ میں ہی عیدین کی نمازیں پڑھایا کرتا تھا۔لیکن ان کی شرارت ہمیشہ ناکام رہتی کیونکہ عین وقت پر جب میں عید گاہ میں پہنچ جاتا تو سب شر و فساد ٹھنڈا ہو جاتا۔اور اشرار ناکام رہ جاتے۔چنانچہ کئی سال تک یہی حال رہا اور میں شریروں کا حال دیکھتا اور صبر کرتا رہا کہ اللہ تعالی بہتر ہی کرے گا اسی دوران میں جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کی خبر سننے میں آئی تو میں بہت گھبرا گیا کیونکہ بہت ی پیشگوئیاں متوقع الوقوع باقی تھیں اور میری سمجھ میں نہ آتا تھا کہ مخالفین کو کیا جواب دوں گا۔لیکن ان ہی دنوں قادیان سے شائع شدہ رسالوں کے مضامین نے میری بہت کچھ تشفی کر دی اور کوئی شک و شبہ باقی نہ رہا۔