جنت کا دروازہ

by Other Authors

Page 58 of 143

جنت کا دروازہ — Page 58

58 معنوں میں ہم ایک دوسرے پر احسان کرتے ہیں۔یہ احسان والدین کے اوپر اولاد کی طرف سے کوئی یک طرفہ نعمت نہیں ہے جو ان کو ادا کی جارہی ہے بلکہ خدا تعالیٰ یہ بیان فرما رہا ہے کہ والدین نے تم سے احسان کا معاملہ کیا تھا۔اس لئے صرف فرض کی ادائیگی کافی نہیں ہوگی جب تک تم ان سے احسان کا معاملہ نہیں کرو گے تم اپنی ذمہ داری کو ادا کرنے والے نہیں بنو گے۔چنانچہ فرمایا۔هل جزاء الاحسان (-) که احسان کی جزار تو احسان کے سوا ہے ہی کوئی نہیں۔کوئی شخص تم پر احسان کرتا چلا جارہا ہو اور تم اپنی روز مرہ کی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہو تو یہ کافی نہیں ہے۔چنانچہ اس مضمون کو آیت کے آخری حصے میں کھول دیا جہاں یہ دعا سکھائی گئی۔(۔) اے اللہ ان سے اسی طرح رحم کا سلوک فرما جس طرح یہ بچپن میں مجھے سے رحم کا سلوک فرماتے تھے صرف اپنے حقوق ادا نہیں کرتے تھے۔محض مجھے زندہ رکھنے کے لئے اور روز مرہ کی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے محنت نہیں اٹھاتے تھے بلکہ اس سے بہت بڑھ کر مجھ سے شفقت اور رحمت کا سلوک فرمایا کرتے تھے۔میری معمولی سی تکلیف پر یہ بے چین ہو جایا کرتے تھے۔میری اوٹی سی بیماری پر ان کی راتوں کی نیندیں حرام ہو جایا کرتی تھیں اور انہوں نے جو مجھ سے سلوک فرمایا وہ رحمت کا سلوک ہے۔پس مجھے جو احسان کا حکم ہے کہ میں بھی احسان کا سلوک کروں تو اے خدا ! میں اس احسان کا بدلہ نہیں چکا سکتا اس لئے میں دعا کے ذریعے تجھ سے مدد چاہتا ہوں اور جب تک تو اس بارہ میں میری مدد نہ فرمائے حقیقت میں میرے والدین کے مجھے پر اتنے احسانات ہیں کہ میں جو بھی کوشش کروں اس کے باوجود ان احسانات کو چکا نہیں سکتا پس تو میری مددفرما اور رب ارحمها اے خدا تو ان کے اوپر رحم فرما اور میرے سلوک میں جو کمیاں رہ جائیں گی وہ تو اپنے رحم سے پوری فرمادے کمار بینی صغیر آ جس طرح بچپن میں یہ میری تربیت کرتے رہے تو ان کے ساتھ وہ سلوک فرما۔