جنت کا دروازہ

by Other Authors

Page 42 of 143

جنت کا دروازہ — Page 42

42 مگر جنگ میں شرکت کے باوجود حضرت عبداللہ نے نہ تلوار اٹھائی اور نہ نیزہ مارا اور نہ تیر چلایا۔اور اس طرح اطاعت خداوندی اور اطاعت والدین کے مابین حسین توازن کا منظر پیش کیا۔(اسد الغابہ جلد 3 صفحہ 235 از ابن اثیر جزری مکتبہ اسلامیہ طہران) مشہور صوفی حضرت محمد علی حکیم ترندی نے اعلیٰ مذہبی تعلیم کے حصول کے لئے دو طالبعلوں کے ہمراہ شہر سے باہر جانے کا ارادہ کیا۔تو آپ کی والدہ نے کہا کہ میں ضعیف ہوں۔مجھ کو اس عالم میں چھوڑ کر کہاں جاتا ہے۔چنانچہ آپ رک گئے۔اور دوسرے دونوں ساتھی چلے گئے۔پانچ ماہ کے بعد ایک دن آپ گورستان میں بیٹھ کر رونے لگے۔کہ میں یہاں بیکار ہوں۔اور میرے ساتھی کل عالم ہو کر آئیں گے آپ ابھی روہی رہے تھے۔کہ ایک طرف سے ایک نورانی شکل کے بزرگ نمودار ہوئے۔اور آپ سے رونے کا سبب پوچھا۔آپ نے سارا حال سنا دیا۔اس بزرگ نے فرمایا کہ تم کوئی غم نہ کرو۔اگر تم چاہو تو میں تم کو روزانہ سبق پڑھا دیا کروں گا۔تا کہ تم ان سے پڑھ جاؤ۔چنانچہ تین سال تک وہ بزرگ آپ کو روز سبق پڑھاتے رہے۔فرماتے ہیں۔کہ میں نے یہ دولت والدہ کی رضا مندی سے حاصل کی۔(تذکرۃ الاولیاء ص 251-252 از فرید الدین عطار - مترجم - شیخ غلام علی اینڈ سنز لاہور ) حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب فرمایا کرتے تھے کہ میں نے کبھی بھی اپنے والدین کے حکم سے سرتابی نہیں کی۔ایک دن والد صاحب نے مجھے ڈانٹا کہ تم سکول کیوں نہیں گئے اور حکم دیا کہ ابھی بستہ اٹھاؤ اور سکول جاؤ۔میں فورا تعمیل حکم میں سکول چل دیا حالانکہ سکول بند تھا۔سکول سے واپس آیا تو والد صاحب کے دریافت کرنے پر میں نے عرض کیا کہ