جنت کا دروازہ

by Other Authors

Page 26 of 143

جنت کا دروازہ — Page 26

26 ایک صحابی نے اپنی والدہ کو ایک لونڈی حبہ کی۔(سنن ابی داؤد کتاب الوصايا باب الرجل يهب الهبة حديث 2492) ایک صحابی نے کھجوروں کا ایک باغ اپنی والدہ کو تحفہ کے طور پر دیا اور والدہ کی وفات کے بعد ان کے نام پر صدقہ کر دیا۔(ابوداؤد كتاب البيوع باب من قال فيه ولعقبه حديث 3087) حضرت امام ابو حنیفہ حضرت امام ابو حنیفہ کا نمونہ بھی لائق تقلید ہے۔ان کے والد امام صاحب کے بچپن میں فوت ہو گئے تھے۔لیکن والد و مدت تک زندہ رہیں اور امام کو ان کی خدمت گزاری کا کافی موقع ہاتھ آیا وہ مزاج کی شکی تھیں۔اور جیسا کہ عورتوں کا قاعدہ ہے۔واعظوں اور قصہ گویوں کے ساتھ نہایت عقیدت رکھتی تھیں۔کوفہ میں عمرو بن زرقہ ایک مشہور واعظ تھے۔ان کے ساتھ خاص عقیدت تھی۔کوئی مسئلہ پیش آتا تو امام صاحب کو حکم دیتیں کہ عمرو بن زرقہ سے پوچھ آؤ۔امام تعمیل ارشاد کے لئے ان کے پاس جا کر مسئلہ پوچھتے وہ عذر کرتے کہ آپ کے سامنے میں کیا زبان کھول سکتا ہوں۔فرماتے کہ والدہ کا یہی حکم ہے"۔اکثر ایسا ہوتا کہ عمرو کو مسئلہ کا جواب نہ آتا تو امام صاحب سے درخواست کرتے کہ آپ مجھے کو بتادیں میں اسی کو آپ کے سامنے دہرا دوں۔“ کبھی کبھی اصرار کرتیں کہ میں خود چل کر پوچھوں گی خچر پر سوار ہوتیں امام صاحب پا پیادہ ساتھ ہوتے۔خود مسئلہ کی صورت بیان کرتیں اور اپنے کانوں سے جواب سن لیتیں۔جب تسکین ہوتی۔ایک دفعہ امام صاحب سے پوچھا کہ یہ صورت پیش آئی ہے۔مجھ کو کیا کرنا چاہئے۔امام صاحب نے جواب بتایا۔بولیں تمہاری سند نہیں۔زرقہ واعظ تصدیق کریں تو مجھ کو انتہار آئے۔امام صاحب ان کو لے کر زرقہ کے پاس گئے اور