جنت کا دروازہ

by Other Authors

Page 25 of 143

جنت کا دروازہ — Page 25

25 جنگ حنین میں بنو ہوازن کے قریباً چھ ہزار قیدی مسلمانوں کے ہاتھ آئے۔ان میں حضرت حلیمہ کے قبیلہ والے اور ان کے رشتہ دار بھی تھے جو وفد کی شکل میں حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حضور ﷺ کی رضاعت کا حوالہ دے کر آزادی کی درخواست کی۔آنحضرت ﷺ نے انصار اور مہاجرین سے مشورہ کے بعد سب کو رہا کر دیا۔(طبقات ابن سعد جلد اوّل صفحہ 114۔بیروت 1960 ء) صحابہ اور بزرگان امت کے نمونے آنحضرت نے کی تربیت کے نتیجہ میں صحابہ اور بعد میں آنے والے بزرگان نے بھی اس مضمون میں نئے عنوان قائم کئے۔چند مثالیں پیش خدمت ہیں۔حضرت اسامہ کے پاس کھجور کے کئی درخت تھے۔ایک دفعہ کھجور کے درختوں کی قیمت غیر معمولی طور پر بڑھ گئی۔انہی ایام میں حضرت اسامہ نے ایک درخت کا تنا کھوکھلا کر کے اس کا مغز نکلا اور اپنی والدہ کو کھلایا۔لوگوں نے حضرت اسامہ سے کہا ان دنوں کھجور کی قیمت بہت چڑھی ہوئی ہے۔آپ نے ایسا کر کے قیامت گرادی ہے۔فرمایا یہ میری والدہ کی فرمائش تھی اور وہ جس چیز کا مطالبہ کرتی ہیں اگر وہ میرے بس میں ہو تو میں ضرور پوری کرتا ہوں۔طبقات ابن سعد جلد 4 صفحہ 71 وار بیروت للطباعة - بيروت - 1957ء) ایک صحابی نے پیدل خانہ کعبہ تک آنے اور حج کرنے کی نذر مانی تھی مگر بڑھاپے کی وجہ سے وہ بغیر سہارے کے ایسا کرنے سے قاصر تھے۔ان کے دونوں بیٹے ان کو سہارا دے کر حج کرانے کے لئے لائے۔حضور ﷺ نے دیکھا تو ان صحابی سے فرمایا سوار ہو جاؤ۔اللہ تعالی تمہارے اپنے نفسوں کو عذاب دینے سے منی ہے۔مسلم كتاب النذر باب من نذر أن يمشى الى الكعبةحديث 3100)