جنت کا دروازہ

by Other Authors

Page 104 of 143

جنت کا دروازہ — Page 104

104 بڑے ہی بد قسمت وہ لوگ ہیں جن کے ماں باپ دنیا سے خوش ہو کر نہیں گئے۔باپ کی رضا مندی کو میں نے دیکھا ہے اللہ کی رضا مندی کے نیچے ہے اور اس سے زیادہ کوئی نہیں۔افلاطون نے غلطی کھائی ہے۔وہ کہتا ہے ”ہماری روح جواد پر اور منزہ تھی ہمارے باپ اسے نیچے گرا کر لے آئے۔“ وہ جھوٹ بولتا ہے۔وہ کیا سمجھتا ہے کہ روح کیا ہے۔نبیوں نے بتلایا ہے کہ یہاں ہی باپ نطفہ تیار کرتا ہے پھر ماں اس نطفہ کو لیتی ہے اور بڑی مصیبتوں سے اسے پالتی ہے۔نو مہینے پیٹ میں رکھتی ہے۔بڑی مشقت سے حملته امــه کـرهـا و وضعته كرها (احقاف:16) اسے مشقت سے اٹھائے رکھتی ہے اور مشقت سے جنتی ہے۔اس کے بعد وہ دو سال یا کم از کم پونے دو سال اسے بڑی تکلیف سے رکھتی ہے اور اسے پالتی ہے۔رات کو اگر وہ پیشاب کر دے تو بستر کی گیلی طرف اپنے بیچے کر دیتی ہے اور خشک طرف بچے کو کر دیتی ہے۔انسان کو چاہتے کہ اپنے ماں باپ ( یہ بھی میں نے اپنے ملک کی زبان کے مطابق کہہ دیا ہے ورنہ باپ کا حق اول ہے اس لئے باپ ماں کہنا چاہئے ) سے بہت ہی نیک سلوک کرے۔تم میں سے جس کے ماں باپ زندہ ہیں وہ ان کی خدمت کرے اور جس کا ایک یا دونوں وفات پاگئے ہیں وہ ان کے لئے دعا کرے صدقہ دے اور خیرات کرے۔ہماری جماعت کے بعض لوگوں کو غلطی لگی ہے۔وہ سمجھتے ہیں ہیں کہ مردہ کو کوئی ثواب وغیرہ نہیں پہنچتا۔وہ جھوٹے ہیں ان کو غلطی لگی ہے۔میرے نزدیک دعا استغفار صدقہ و خیرات بلکہ حج زکوۃ ' روزے یہ سب کچھ پہنچتا ہے۔میرا یہی عقیدہ ہے اور بڑا مضبوط العقیدہ ہے۔ایک صحابی نبی کریم ﷺ کے پاس حاضر ہوئے۔اور عرض کیا کہ میری ماں کی جان اچانک نکل گئی اگر وہ بولتی تو ضرور صدقہ کرتی۔اب اگر میں صدقہ کروں تو کیا اسے