جنت کا دروازہ

by Other Authors

Page 88 of 143

جنت کا دروازہ — Page 88

88 الله اعلیٰ مدراج تک پہنچے گا کہ کبھی کسی انسان کے تصور میں بھی یہ نہیں آ سکتا تھا کہ کوئی شخص خدا کے اتنا قریب ہو جائے اور چونکہ والدین ایسی حالت میں گزرے تھے کہ ابھی وہ مسلمان نہیں ہوئے تھے اور نہ مسلمان ہو سکتے تھے اور انبیاء کو حکم نہیں ہے کہ وہ اپنے ان والدین کے لئے دعا کریں جن کے متعلق احتمال ہو کہ وہ مشرک ہیں۔اس لئے آنحضرت ﷺ نے دعا نہیں کی بلکہ یہ عرض کیا ہے کہ اے خدا! ان پر بھی تو نے بہت بڑا انعام کیا ہے۔اتنا بڑا انعام کہ مجھے ان کے گھر پیدا کر دیا اور وہ شکر ادا نہیں کر سکتے۔ان کو علم نہیں ہے کہ کیا احسان تو نے ان پر کیا ہے۔مجھے توفیق عطا فرما کہ میں ان کی طرف سے تیرا شکر ادا کروں۔میں سمجھتا ہوں کہ ان کی مغفرت کی دعا کرنے کا اس سے اعلیٰ طریق اور کوئی ہو ہی نہیں سکتا اور ان معنوں میں احسان کا بدلہ بھی اتار گئے۔مضمون دیکھیں کس طرح اٹھایا گیا ہے کہ والدین کے احسان کو یاد کرو۔والدین کے احسان کو یاد کر کے آنحضرت فرماتے ہیں اے خدا! ان کی طرف سے مجھے شکر کی توفیق عطا فرما۔پس جن کی طرف سے محمد رسول اللہ شکر یہ ادا کر رہے ہوں کیسے ممکن ہے میں تو یقین نہیں کر سکتا کہ اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت کا سلوک نہ فرمائے۔(۔) اور شکر کی تعریف فرما دی۔ہم جو زبانی شکر ادا کرتے رہتے ہیں یہ تو کوئی شکر نہیں۔فرمایا شکر کس طرح ادا کروں فرمایا (-) میں ہمیشہ ایسا عمل کروں کہ جن کے نتیجہ میں تو راضی ہوتا رہے۔اس میں شکر کا فلسفہ بھی بیان ہو گیا۔ایک انسان شکر اس لئے کرتا ہے کہ کوئی شخص اس پر احسان کرتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ وہ اس احسان کا بدلہ چکا سکے۔خدا کو آپ احسان کا بدلہ نہیں دے سکتے لیکن احسان کا بدلہ چکانے کی روح یہ ہے کہ جب آپ احسان اتارتے ہیں تو اگلا راضی ہوتا ہے۔جب آپ کو کوئی تحفہ دے اور آپ اس کو اس سے بڑھ کر تحفہ دیں تو تھے تو عارضی چیزیں ہیں بعض دفعہ خود استعمال بھی نہیں کرتا کسی اور کو دے دیتا ہے یا پھینک دیتا ہے یا اس کے کام کی چیز نہیں ہوتی لیکن وہ راضی ہو جاتا ہے