جنت کا دروازہ — Page 117
117 اس سے بہتر نظر آیا نہ کوئی عالم میں لاجرم غیروں سے دل اپنا چھڑایا ہم نے میں آپ کو نہیں چھوڑ سکتا رسول اللہ ﷺ کو اپنے والدین پر ترجیح دینے کے سلسلہ میں حضرت زید کا اسوہ ایک روشن مثال ہے۔حضرت زید بن حارثہؓ کو ایک اچھے خاندان کے نونہال تھے۔لیکن خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ ڈاکوؤں کے ایک گروہ نے بچپن میں ہی ان کی متاع آزادی کو چھین لیا اور عکاظ کے بازار میں فروخت کے لئے لے آئے جہاں حکیم بن حزام نے خرید کر اپنی پھوپھی حضرت خدیجہ کے حضور پیش کر دیا اور اس طرح آپ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آگئے۔ایک دفعہ ان کے قبیلہ کے بعض لوگ بہ نیت حج مکہ میں آئے تو انہیں پہچان لیا اور جا کر ان کے والد کو خبر دی جس پر اس کا خوش ہونا ایک طبعی بات تھی۔چنانچہ وہ اپنے بھائی کو ساتھ لے کر مکہ میں پہنچا اور آنحضرت ﷺ سے بعد منت والحاج عرض کیا کہ میرے لڑکے کو آزاد کر دیں اور جو فدیہ چاہیں لے لیں۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ مجھے فدیہ کی کوئی ضرورت نہیں۔زید کو بلا کر پوچھ لیا جائے اگر وہ جانا چاہیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔چنانچہ حضرت ریڈ کو بلایا گیا اور آنحضرت ﷺ نے ان سے دریافت فرمایا کیا تم ان لوگوں کو جانتے ہو انہوں نے جواب دیا کہ ہاں یہ میرے والد اور چاہیں۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اگر ان کے ساتھ جانا چاہو تو جاسکتے ہو۔ہر مشخص اندازہ کر سکتا ہے کہ بچپن میں والدین عزیز واقارب اور وطن عزیز سے دور ہو جانے والے کو اتنے لمبے عرصہ کی مایوسی کے بعد پھر جب ان سے ملنے کا موقعہ ملے اور