جنت کا دروازہ — Page 7
7 لا يدخُلُ الجَنَةَ قَاطِعُ ( صحیح بخاری کتاب الادب باب اثم القاطع حديث نمبر 5525) یعنی قطع رحمی کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔سب سے بڑا گناہ انسان کمزوریوں کا خطاؤں کا پتلا ہے۔اپنی محدود زندگی میں بے شمار گناہ کرتا ہے۔لیکن ان گناہوں کو اپنی شدت اور شناعت کے لحاظ سے ترتیب دیا جائے تو سب سے بڑا گناہ شرک اور والدین کی نافرمانی ہے۔چنانچہ جب اللہ تعالی نے حرام امور کا حقیقی خلاصہ بیان فرمایا تو انہی دونوں امور پر مشتمل تھا۔باقی سب تفاصیل ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِحْسَانًا قُلْ تَعَالَوا اتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُم عَلَيْكُمْ أَلَّا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ (الانعام: ۱۵۲) تو کہہ دے آؤ میں پڑھ کر سناؤں جو تمہارے رب نے تم پر حرام کر دیا ہے (یعنی) یہ کہ کسی چیز کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ اور ( لازم کر دیا ہے کہ ) والدین کے ساتھ احسان سے پیش آؤ۔سیدنا حضرت خلیق مسیح الرابع ایدہ اللہ بن رو اعز یز اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں۔کہ اس آیت کو بعینہ ظاہری لفظوں میں دیکھا جائے تو یہ مطلب بنے گا۔(۔) تم پر حرام کر دیا ہے اللہ نے کہ خدا کا شریک ٹھہراؤ یاد نیاوی تعلقات میں والدین کا شریک ٹھہراؤ کیوں کروایا احسانا“۔احسان کے پیش نظر کیونکہ اللہ کا بھی ایک ایسا احسان