جنت کا دروازہ — Page 57
57 حکمتیں پنہاں ہیں۔اب میں نسبتاً تفصیل سے اس آیت کے بعض مضامین کھول کر آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔والدین کے ساتھ احسان کا سلوک ضروری ہے پہلی بات تو یہ ہے کہ احسان کا حکم دیا گیا ہے ادا ئیگی فرض کا نہیں اور احسان بظاہر ضروری نہیں ہوا کرتا۔احسان تو ایسا معاملہ نہیں ہے کہ ہر انسان پر فرض ہو۔کیا یا نہ کیا کوئی فرق نہیں پڑتا۔یعنی اگر فرق پڑتا بھی ہے تو احسان ایک ایسی بات نہیں جو اگر انسان نہ کرے تو خدا کے نزدیک معتوب ہو جائے تو پھر خدا تعالیٰ نے ذمہ داریاں ادا کرنے کا حکم کیوں نہ دیا اور احسان کا حکم کیوں دیا ؟ اس میں اور بھی حکمتیں پوشید ہوں گی لیکن دو ایسی حکمتیں ہیں جن کو میں آپ کے سامنے کھولنا چاہتا ہوں۔پہلی بات تو یہ ہے کہ فرض کی ادائیگی پہلے ہوا کرتی ہے اور احسان بعد میں آتا ہے۔اگر فرض ادا نہ ہو تو احسان کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔اس لئے قرآن کریم جو بڑی تصیح و بلیغ کتاب ہے خدا کا کلام ہے اس نے ایک لفظ میں اس سے پہلے ہونے والی ذمہ داریوں کا بھی ذکر فرما دیا اور مومن سے گویا یہ توقع رکھی کہ جہاں تک اس کی روز مرہ کی ذمہ داریوں کا تعلق ہے فرائض کا تعلق ہے وہ تو لازما وہ پورے کر رہا ہے۔ان کو نہ پورے کرنے کا تو سوال ہی نہیں۔لیکن جہاں تک والدین کا تعلق ہے محض ذمہ داریاں پورا کرنا کافی نہیں ہے۔ان کے ساتھ احسان کا سلوک ہونا ضروری ہے۔ایک یہ حکمت ہے۔دوسری حکمت یہ ہے کہ یہاں لفظ احسان کو سمجھنے کے لئے ہمیں قرآن کریم کی ایک اور آیت کا سہارا لینا ہوگا جو اس مضمون کے لئے کنجی کی حیثیت رکھتی ہے۔ایک دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔حل جزاء الاحسان (۔) کہ احسان کی جزا احسان کے سوا کیا ہو سکتی ہے۔پس یہ احسان ان کے اوپر ان معنوں میں احسان نہیں ہے جن