جنت کا دروازہ — Page 106
106 مویشی کو کھلاؤں پلاؤں۔میں دودھ کا پیالہ اپنے ہاتھ میں پکڑے اس انتظار میں کھڑا رہا کہ وہ بیدار ہوں تو ان کو دودھ پلاؤں۔اسی انتظار میں فجر ہوگئی اور بچے بھوک کی وجہ سے میرے قدموں میں بلبلاتے رہے۔صبح کے وقت جب وہ بیدار ہوئے تو رات کا دودھ انہوں نے پیا۔اگر اے خدا میں نے تیری رضا کی خاطر یہ کام کیا تھا تو اس مصیبت کو ٹال دے۔چنانچہ اس دعا کی برکت سے وہ پتھر تھوڑ اسا سرک گیا۔اسی طرح باقی دو نے بھی اپنی ایک ایک نیکی بیان کی اور وہ پتھر راستے سے ہٹ گیا۔( بخاری کتاب الاجاره باب من استاجر اجیرا فترك الاجير احدیث (2111)