جنت کا دروازہ — Page 71
71 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ماں کی عظمت وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ إِحْسَنًا حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا وَحَمْلَهُ وَ فِصْلُهُ ثَلْثُونَ شَهْرًا حَتَّى إِذَا بَلَغَ أَشُدَّهُ وَبَلَغَ أَرْبَعِينَ سَنَةٌ قَالَ رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَ عَلَى وَالِدَيَّ وَ أَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَهُ وَاَصْلِحُ لِي فِي ذُرِّيَّتِي إِنِّي تُبْتُ إِلَيْكَ وَ إِنِّي مِنَ الْمُسْلِمِينَ (الاحقاف-16) اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے کی تاکید کی ہے۔سید اس وجہ سے کہ مشکل سے اس کی ماں نے اپنے پیٹ میں اس کو رکھا اور مشکل ہی سے اس کو جنا اور یہ مشکلات اس دور دراز مدت تک رہتی ہیں کہ اس کا پیٹ میں رہنا اور اس کے دودھ کا چھوٹا میں مہینہ میں جا کر تمام ہوتا ہے یہاں تک کہ جب ایک نیک انسان اپنی پوری قوت کو پہنچتا ہے تو دعا کرتا ہے کہ اے میرے پروردگار مجھ کو اس بات کو توفیق دے کہ تو نے جو مجھے اور میرے ماں باپ پر احسانات کئے ہیں تیرے ان احسانات کا شکریہ ادا کرتا رہوں اور مجھے اس بات کو بھی توفیق دے کہ میں کوئی ایسا نیک عمل کروں جس سے تو راضی ہو جائے۔اور میرے پر یہ بھی احسان کر کہ میری اولاد نیک بخت ہو اور میرے لئے خوشی کا موجب ہو اور میں اولاد پر بھروسہ نہیں کرتا بلکہ ہر ایک حاجت کے وقت تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور میں ان میں سے ہوں جو تیرے آگے اپنی گردن رکھ دیتے ہیں اور نہ کسی اور کے آگے۔(ترجمہ: حضرت مسیح موعود از چشمه معرفت صفحه 200 حاشیه )