جنت کا دروازہ

by Other Authors

Page 50 of 143

جنت کا دروازہ — Page 50

50 جب رستم خان دعا کے لئے قبرستان جارہے تھے تو کسی نے فائر کر کے انہیں شہید کر دیا۔والد کی ہجرت مولوی ابوالمنیر نورالحق صاحب بیان کرتے ہیں۔(حیات الیاس صفحہ 66) دسمبر 1929 ء میں ہمارے والد صاحب اپنے آبائی وطن کو خیر باد کہہ کر اہل و عیال سمیت قادیان تشریف لے آئے۔لیکن ہمارے دادا صاحب تیار نہ ہوئے۔اور وطن میں ہی رہ گئے اس وقت ان کی عمر پچاسی برس کے قریب تھی۔لیکن ہم سب کی یہ دلی خواہش تھی کہ وہ کسی طرح قادیان آجائیں۔اور وصیت کرنے کے بعد انہیں بہشتی مقبرہ میں دفن ہونے کی سعادت ملے۔حضرت مولوی شیر علی صاحب میرے دادا صاحب کے خوب واقف تھے۔ایک دن والد صاحب نے اپنے ہجرت کر کے قادیان آنے اور حضرت دادا صاحب کے وطن میں رہ جانے کا واقعہ کا ذکر کر کے دعا کی درخواست کی۔اس کے بعد خاکسار کی جب بھی حضرت مولوی صاحب سے ملاقات ہوتی۔تو آپ دادا صاحب کی ہجرت کی نسبت ضرور دریافت فرماتے جب میں نفی میں جواب دیتا۔تو آپ فرماتے میں دعا کر رہا ہوں انشاء اللہ وہ قادیان آجائیں گے۔اور وصیت بھی ان کو نصیب ہو جائے گی۔چنانچہ حضرت مولوی صاحب کی دعاؤں کی برکت سے آخر اللہ تعالی نے چار پانچ سال کے بعد ہمارے دادا صاحب کو انشراح صدر بخشا۔اور آپ قادیان تشریف ئے آئے بالآ خر آپ کو وصیت کو توفیق بھی ملی اور بہشتی مقبرہ میں مدفون ہوئے۔