جنت کا دروازہ — Page 38
38 نہ سنوں۔تم نہیں دیکھتے کہ خدا تعالیٰ کا قہر نازل ہے اور طاعون دنیا کو کھائے جاتی ہے۔ایسا نہ ہو کہ اپنی بدعملی کی وجہ سے طاعون کا شکار ہو جاؤ۔اور اگر تم اپنے مال سے اپنی والدہ کی خدمت کرو گے تو خدا تمہیں برکت دے گا۔یہ وہی والدہ ہے کہ جس نے دعاؤں کے ساتھ تمہیں ایک مصیبت کے ساتھ پالا تھا۔اور ساری دنیا سے زیادہ تم سے محبت کی۔پس خدا اس گناہ سے درگزر نہیں کرے گا۔جلد تو بہ کرو۔جلدی تو بہ کرو۔ورنہ عذاب نزدیک ہے۔اس دن پچھتاؤ گے دنیا بھی جائے گی اور ایمان بھی۔میں نے باوجود سخت کم فرصتی کے یہ خط لکھا ہے۔خدا تمہیں اس لعنت سے بچاوے جو نافرمانوں پر پڑتی ہے اگر تمہاری والدہ بد زبان ہے اور خواہ کتنا ہی بد خلقی کرتی ہے۔خواہ کیسا ہی تمہارے نزدیک بری ہے اور سب باتیں اس کو معاف ہیں کیونکہ اس کے حق ان تمام باتوں سے بڑھ کر ہیں۔تمہاری خوش قسمتی ہوگی کہ میری اس تحریر کو پڑھ کر تو بہ کرو۔اور سخت بد قسمتی ہوگی کہ میری اس تحریر سے فائدہ نہ اٹھاؤ۔شیخ صاحب فرماتے ہیں کہ میں اس خط کو پڑھ کر کانپ گیا۔اور میرے بدن میں کیکچی پیدا ہو گئی۔بڑی خوشامد اور لجاجت سے اپنی والدہ سے معافی مانگی اور ان کو خوش کیا۔اور زندگی بھر ان کی فرمانبرداری اور دل جوئی کو اپنا نصب العین بنالیا۔رفقائے احمد جلد 10 ص 72 ملک صلاح الدین صاحب۔احمد یہ بک ڈپو قادیان طبع اول 1966ء) ام ارشاد حضرت خلیفة اصبح الاول فلا تقل لهما اف اس قدر ان کی مدارت رکھو کہ اف کا لفظ بھی منہ سے نہ نکلے چہ جائیکہ ان کو