جنت کا دروازہ — Page 24
24 صلى الله گوشت تقسیم فرما رہے تھے کہ ایک عورت آئی اور حضور علیہ کے قریب چلی گئی۔حضور ے نے اس کی بہت تعظیم کی اور اس کے لئے اپنی چادر بچھا دی۔میں نے پوچھا یہ عورت کون ہے تو لوگوں نے کہا یہ حضور علے کی رضاعی والدہ ہیں۔(ابوداؤد کتاب الادب باب بر الوالدین حدیث 4477) حضرت خلیفہ امسیح الرابع ایدہ اللہ فرماتے ہیں۔۔ماں کی عزت تو الگ بات ہے اپنی رضاعی والدہ کے لئے آنحضرت ﷺے اس قدر اپنے دل میں احترام رکھتے تھے اپنی چادر ان کے لئے بچھا دی۔اگر ماں زندہ ہوتی تو اللہ بہتر جانتا ہے کہ رسول اللہ نے کیا سلوک فرماتے۔جو اپنی رضاعی والدہ کے لئے ایسا نرم گوشہ رکھتا ہے وہ اپنی حقیقی والدہ کے لئے تو بلاشبہ ایک مثالی بیٹا ثابت ہوتا مگر یہ مقدر نہیں تھا۔اللہ اپنی حکمتوں کو بہتر جانتا ہے۔(الفضل ربوہ 2 مئی 2000ء) ایک بار حضور اللہ تشریف فرما تھے کہ آپ کے رضاعی والد آئے۔حضور ے نے ان کے لئے چادر کا ایک گوشہ بچھا دیا۔پھر رضاعی ماں آئیں تو آپ نے دوسرا گوشہ بچھا دیا۔پھر آپ کے رضاعی بھائی آئے تو آپ اٹھ کھڑے ہوئے اور ان کو اپنے سامنے بٹھا لیا۔(ابوداؤد کتاب الادب باب بر الوالدین حدیث (4479) حضرت حلیمہ سعدیہ سے بھی پہلے حضور ﷺ کو ابولہب کی لونڈی تویہ نے دودھ پلایا تھا۔حضور ﷺ اور حضرت خدیجہ اس کا مکہ میں بہت خیال رکھتے۔حضرت خدیجہ نے تو ابولہب سے اس کو خرید کر آزاد کرنا چاہا مگر ابولہب نے انکار کر دیا۔جب حضور مدینہ تشریف لے گئے تو ابولہب نے اسے آزاد کر دیا۔حضور نے ہجرت کے بعد بھی اس کے حالات سے خبر رکھتے اور کپڑوں وغیرہ سے مددفرماتے رہتے تھے۔(طبقات ابن سعد جلد اوّل صفحہ 109 - بیروت 1960ء)