جنت کا دروازہ

by Other Authors

Page 8 of 143

جنت کا دروازہ — Page 8

8 ہے تم پر جس میں کوئی کائنات میں اور شریک نہیں ہے بلکہ ساری کائنات اس کے احسان کا ایک مظہر ہے۔تم پر احسان کیا تو کائنات وجود میں آئی تم پر احسان کرنا مقصود تھا تو کائنات کو پیدا کیا گیا تو اتنے بڑے احسان کے بدلے اگر تم اس کے شریک ٹھہرانے لگو تو اس سے زیادہ بے حیائی اور ناشکری ممکن ہی نہیں ہے۔اور تمہیں وجود کی خلعت بخشی ماں باپ نے ماں باپ نہ ہوں تو تمہاری دنیا وجود میں نہ آئے۔تو یہ دونوں اقدار مشترک ہیں۔مشترکہ اقدار ہیں۔خدا تعالی کی تخلیق میں اور ماں باپ کے اپنے بچوں کو پیدا کرنے میں یہ دونوں قدر مشترک ہیں اور جو احسان فراموش ہیں وہ تو یہ بھی کہہ دیتے ہیں ہم نے کب خدا سے کہا تھا کہ ہمیں پیدا کر و۔اگر اپنی خاطر پیدا کیا تھا جو کچھ بھی کیا تو اس لوتھڑے کو سینے سے لگائے کیوں پھرے۔کیوں اس کی تکلیفیں برداشت کیں۔کیوں اس کو پال پوس کر پیار سے جو چیزیں اپنے اوپر خرچ کر سکتے تھے اپنی ذات کی قربانی کی ان پر خرچ کئے بچپن سے کتنے نخرے برداشت کئے۔یہ بات ثابت کرتی ہے کہ اپنی خاطر نہیں کیا۔تمہاری خاطر ہی کیا ہے۔اور احسان جو ہے وہ ان دونوں صورتوں میں بے مثال ہے کسی اور رشتے میں وہ احسان دکھائی نہیں دیتا جو خدا کے احسان سے مشابہ ہو جو ماں باپ اور بچے کے رشتے میں دکھائی دیتا ہے پس یہ وہ مضمون ہے اگر آپ غور کریں اس پر تو بڑے عظیم مطالب اس سے نکلتے ہیں۔بنیادی طور پر احسان فراموشی کو سب سے بڑا جرم قرار دیا گیا ہے۔بنیادی طور پر احسان نا فراموشی کی تاکید فرمائی گئی یا احسان فراموشی کو حرام کر دیا۔خطبہ جمعہ 24 جنوری 97 ، مطبوع الفضل انٹر نیشنل 14 مارچ 1997ء) اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے ساتھ والدین کا شکر بھی لازم کر دیا ہے فرمایا:۔وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَى وَهْنٍ وَفِضَلُهُ فِي