جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 536 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 536

536 ۹۔حضرت مولانا شیر علی صاحب پیدائش: ۲۴ / نومبر ۱۸۷۵ء۔بیعت: ۱۸۹۷ء۔وفات: ۱۳/ نومبر ۱۹۴۷ء پیدائش و آبائی وطن : حضرت مولانا شیر علی صاحب مورخہ ۲۴ نومبر ۱۸۷۵ء کوضلع سرگودھا کے ایک چھوٹے سے گاؤں اور جماں تحصیل بھلوال میں پیدا ہوئے۔آپ رانجھا قوم سے تعلق رکھتے تھے۔جو قریش کے خاندان کی ایک شاخ ہے۔آپ کا آبائی وطن موضع ” چاوہ متصل بھیرہ تھا جو تحصیل بھلوال میں ہی واقع ہے۔آپ کے دادا مولوی غلام مصطفیٰ صاحب کی شادی چونکہ پڑھیار قوم میں ہوئی تھی اس لئے انہوں نے اپنی لڑکی کو زمین اور مکان وغیرہ دے کر حضرت مولانا شیر علی صاحب کے والد ماجد حضرت مولوی نظام الدین صاحب کو اپنے پاس ہی بلا لیا۔جہاں آپ نے مستقل سکونت اختیار کر لی۔چنانچہ حضرت مولانا شیر علی صاحب نے اور جماں میں ہی جنم لیا اور بچپن کی معصوم زندگی کے پر سکون ایام اسی گاؤں کی آزاد فضاؤں میں بسر کئے۔والدین : حضرت مولانا صاحب کے والد بزرگوار اپنے گاؤں میں عالم دین کی حیثیت سے نہایت قدرومنزلت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے چنانچہ ان کی علمی برتری ، تقومی ، طہارت اور صحیح اسلامی روح ایسے اوصاف تھے جن کے باعث ان کا نہ صرف اپنے علاقہ پر اثر و رسوخ تھا بلکہ ارد گرد کے قصبات میں بھی آپ کے پسندیدہ فضائل اور علمی تقویٰ کا بہت چرچا تھا۔تعلیم : ابتدائی دینی تعلیم حضرت مولوی صاحب نے اپنے والد بزرگوار سے حاصل کی۔اس کے بعد آپ اپنے بڑے بھائی حضرت حافظ عبدالعلی صاحب کے ساتھ بھیرہ ہائی سکول میں داخل ہوئے جو ادرحماں“ سے تمہیں میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔آپ نے پرائمری بھیرہ ہائی سکول میں پاس کی۔آپ کا شمار سکول کے بہت ہی لائق اور قابل طلباء میں ہوتا تھا۔علم کی منزلیں شوق در شوق اور اعزاز وا کرام کے ساتھ طے کرتے ہوئے آپ نے ۱۸۹۵ء میں انٹرنس کا امتحان نمایاں کامیابی سے پاس کیا۔اس کے بعد حضرت مولوی صاحب کو ایف سی کالج لاہور میں داخل کروا دیا گیا۔چنانچہ ۱۸۹۷ء میں آپ نے بی اے کے امتحان میں خدا تعالیٰ کے فضل سے پنجاب بھر میں ساتویں پوزیشن حاصل کر کے نمایاں کامیابی حاصل کی۔قبول احمدیت : ان دنوں احمدیت کا پنجاب کے طول و عرض میں کافی چرچا ہورہا تھا۔حضرت مولوی صاحب چونکہ اس سے قبل خود بھی حضرت حکیم فضل الدین صاحب بھیروی کی صحبت میں رہ کر احمدیت سے روشناس ہو چکے تھے نیز کبھی کبھی حضرت خلیفہ اول کے اپنے وطن ملوف بھیرہ آنے پر ان سے بھی روحانی فیوض حاصل کرتے۔علاوہ ازیں آپ کے ایک چا مکرم مولوی حکیم شیر محمد صاحب ( جو عربی فارسی کے عالم اور بڑے