جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 494
494 ایڈیٹر چھپتا رہا۔عملی طور پر یہ ذمہ داری حضرت قاضی محمد ظہور الدین صاحب اکمل نے اٹھالی جو الفضل کے اجرا کے وقت سے ہی اس کے سٹاف کے ایک سرگرم رکن تھے۔الفضل ۱۹۱۵ء میں حضرت قاضی صاحب موصوف کے سپرد چونکہ الفضل کی مینیجری کے علاوہ اور کام بھی تھا اور الفضل کا حلقه عمل روز بروز ز بروز وسیع ہوتا جارہا تھا۔اس لئے ایک مستقل ایڈیٹر کی ضرورت محسوس کی گئی اور ماسٹر احمد حسین صاحب فرید آبادی کو جو ایک عرصہ تک مختلف اخبارات میں کام کر چکے تھے اور اس وقت دہلی میں کتابوں کی دکان کرتے تھے بلایا گیا۔جنہوں نے جون ۱۹۱۵ ء میں الفضل کی ایڈیٹری کا کام سنبھال لیا۔دم الفضل کے بہت بڑے اخراجات کے لئے چونکہ اس کی آمد کافی نہ تھی اور اڑھائی سال کے عرصہ میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی اپنے پاس سے قریباً پانچ ہزار روپے اس پر صرف فرما چکے تھے۔ادھر حالات بھی کچھ پُرسکون ہورہے تھے۔جماعت کا کثیر حصہ خلافت ثانیہ کی کامل اطاعت کا شرف حاصل کر چکا تھا۔اس لئے اس احتیاط کے ساتھ کہ الفضل جتنے صفحات تین بار شائع ہونے کی صورت میں ہفتہ وار دیتا تھا۔اتنے ہی دوبار شائع ہونے پر دے۔اسے انومبر ۱۹۱۵ ء ء سے ہفتہ میں دو بار کر دیا گیا۔لیکن جب سالانہ جلسہ قریب آیا تو ۸ دسمبر سے ۲۸ دسمبر تک عارضی طور پر ہفتہ میں تین بار کیا گیا۔الفضل ۱۹۱۶ء میں ۱۲ جنوری ۱۹۱۶ء کو صحت کے کمزور ہونے کی وجہ سے ماسٹر احمد حسین صاحب الفضل کی ایڈیٹری کی ذمہ داری سے فارغ ہو گئے۔اس کے بعد کچھ دن جناب مولانا محمد اسمعیل صاحب فاضل کے سپرد یہ کام ہوا اور پھر یہ ذمہ داری قاضی اکمل صاحب پر ڈالی گئی۔4 جولائی ۱۹۱۶ ء تک یہی انتظام رہا۔اس کے بعد یہ ذمہ داری جناب خواجہ غلام نبی صاحب کو سونپ دی گئی۔جو ۱۹۱۶ ء سے لے کر ۱۹۴۶ء تک یعنی تمیں برس کے طویل عرصہ تک نہایت خوش اسلوبی سے الفضل کی ادارت کا نازک کام سرانجام دیتے رہے۔۱۹۴۶ء میں آپ کے ریٹائر ہونے کے بعد مکرم جناب شیخ روشن دین صاحب تنویر بی اے ایل الفضل کے ایڈیٹر مقرر ہوئے۔