جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 355
355 تحریک جدید تحریک جدید ایک الہی تحریک ہے جسے حضرت مصلح موعود نے خدا تعالیٰ کی خاص مشیت اور اس کے القاء سے جاری فرمایا۔یہ ایک انقلاب انگیز تحریک تھی جس کے ذریعے اکناف عالم میں توحید الہی کے قیام اور اشاعت دین حق کی مضبوط بنیاد ڈال دی گئی۔اور جماعت احمدیہ کی دینی اور اشاعتی سرگرمیوں میں اس تحریک سے ایک نئے باب کا آغاز ہوا۔اس تحریک کی بنیاد ۱۹۳۴ء میں رکھی گئی جبکہ جماعت احمدیہ کے خلاف مخالفین کی ریشہ دوانیوں اور ایذاء رسانیوں نے تند و تیز طوفان کی شکل اختیار کر لی تھی۔اور جماعت کو صفحہ ہستی سے نیست و نابود کرنے کے لئے ایک طرف احراری تحریک اپنے نقطہ عروج پر تھی۔تو دوسری طرف اس وقت کی انگریز حکومت کے بعض اعلیٰ افسران بھی ان کی پشت پناہی کر رہے تھے اور اس سازش میں برابر کے شریک تھے۔تحریک جدید ہے کیا؟ حضرت مصلح موعود نے فرمایا:۔پس تحریک جدید کیا ہے؟ وہ خدا تعالیٰ کے سامنے عقیدت کی یہ نیا ز پیش کرنے کے لئے ہے کہ وصیت کے ذریعہ تو جس نظام کو دنیا میں قائم کرنا چاہتا ہے۔اس کے آنے میں ابھی دیر ہے۔اس لئے ہم تیرے حضور اس نظام کا ایک چھوٹا سا نقشہ تحریک جدید کے ذریعہ پیش کرتے ہیں۔۔۔غرض تحریک جدید گو وصیت کے بعد آئی ہے مگر اس کے لئے پیشرو کی حیثیت میں ہے گویا وہ نظام اس کے مسیح کے لئے ایک ایلیاہ نبی کی حیثیت رکھتی ہے اور اس کا ظہور مسیح موعود کے غلبہ والے ظہور کے لئے بطور ارہاص کے ہے۔ہر شخص جو تحریک جدید میں حصہ لیتا ہے، وصیت کے نظام کو وسیع کرنے میں مدد دیتا ہے اور ہر شخص جو نظام وصیت کو وسیع کرتا ہے۔وہ نظام کو کی تعمیر میں مدد دیتا ہے۔“ ایک الہی تحریک (نظام نوصفحه ۱۳۰،۱۲۹) تحریک جدید کی سکیم کا نافذ ہونا خدا کی ازلی تقدیروں میں سے تھا ، احراری شورش تو محض ایک بہا نہ تھی۔جیسا کہ وہ پہلے سے اس کے متعلق کئی بشارتیں دے چکا تھا۔تحریک جدید کے ذریعہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا وہ کشف بھی پورا ہو گیا جس میں حضور کو غلبہ دین حق کے لئے پانچ ہزار سپاہیوں پر مشتمل