جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 260 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 260

260 پر دل کو پہنچے غم جب یاد آئے وقت رخصت یہ روز کر مبارک سُبح دنیا بھی اک سرا ہے بچھڑے گا جو ملا ہے گر سو برس رہا ہے آخر کو پھر جدا ہے شکوہ کی کچھ نہیں جا ہی بے ہے یہ روز کر مبارک سُبح ان ( محمود کی آمین از در مشین اردو) مہمان نوازی کے تعلق میں مولانا ابوالکلام آزاد کے بڑے بھائی مولانا ابوالنصر مرحوم کے قادیان جانے کا ذکر بھی اس جگہ بے موقعہ نہ ہوگا۔وہ ۱۹۰۵ء میں حضرت مسیح موعود کی ملاقات کے لئے قادیان تشریف لے گئے۔بہت زیرک اور سمجھدار بزرگ تھے۔قادیان سے واپس آ کر انہوں نے ایک مضمون لکھا جس میں مولانا ابوالنصر فرماتے ہیں:۔میں نے کیا دیکھا۔مرزا صاحب سے ملاقات کی اور ان کا مہمان رہا۔مرزا صاحب کے اخلاق اور توجہ کا مجھے شکر یہ ادا کرنا چاہئے اکرام ضیف کی صفت خاص اشخاص تک محدود نہ تھی چھوٹے سے لے کر بڑے تک ہر ایک نے بھائی کا سا سلوک کیا۔مرزا صاحب کی صورت نہایت شاندار ہے جس کا اثر بہت قوی ہوتا ہے۔آنکھوں میں ایک خاص طرح کی چمک اور کیفیت ہے اور باتوں میں ملائمت ہے۔طبیعت منکسر مگر حکومت خیز۔مزاج ٹھنڈا مگر دلوں کو گرما دینے والا۔برد باری کی شان نے انکسار کیفیت میں اعتدال پیدا کر دیا ہے۔گفتگو ہمیشہ اس نرمی سے کرتے تھے کہ معلوم ہوتا ہے کہ گویا متبسم ہیں۔مرزا صاحب کے مریدوں میں میں نے بڑی عقیدت دیکھی اور انہیں بہت خوش اعتقاد پایا۔۔مرزا صاحب کی وسیع الاخلاقی کا یہ ادنی نمونہ ہے کہ اثنائے قیام کے متواتر نوازشوں پر بایں الفاظ مجھے مشکور ہونے کا موقعہ دیا کہ ہم آپ کو اس وعدہ پر (واپس جانے کی اجازت دیتے ہیں کہ آپ پھر آئیں اور کم از کم دو ہفتہ قیام 66 میں جس شوق کو لے کر گیا تھا اسے ساتھ لایا اور شاید وہی شوق مجھے دوبارہ لے جائے۔“ (اخبار وکیل امرتسر بحوالہ احکم ۲۴ مئی ۱۹۰۵ء) حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی۔جو ممتاز رفقاء میں سے تھے۔اور انہیں مسیح موعود کے قرب کی صحبت کا بہت لمبا موقعہ میسر آیا تھا۔وہ بیان فرماتے تھے کہ :۔ایک دفعہ گرمی کا موسم تھا اور حضرت مسیح موعود کے اہل خانہ لدھیانہ گئے ہوئے تھے۔میں حضور