جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 254 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 254

254 سیکرٹری کے تین کمروں میں منتقل کی گئی۔بعد میں اس امر کی بڑی شدت سے ضرورت محسوس کی گئی کہ ربوہ میں ایسی لائبریری تعمیر کی جائے جس سے عوام الناس کے علاوہ طلباء بھی بھر پور استفادہ کرسکیں۔چنانچہ اس مقصد کے پیش نظر ۱۸ جنوری ۱۹۷۰ء کو سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے خلافت لائبریری کا سنگ بنیا درکھا جس کا ۱۳ راکتو برا ۱۹۷ء کو افتتاح ہوا۔اس موقع پر حضور نے فرمایا:۔یہ اتنی اہم چیز ہے کہ ہمارے سارے کام اس سے وابستہ ہیں تبلیغ دین حق ، مخالفوں کے اعتراضات کے جواب ، تربیت، یہ سب کام لائبریری سے ہی تعلق رکھتے ہیں۔“ لائبریری کی تعمیر، فرنیچر اور دیگر تمام ضروریات کے اخراجات فضل عمر فاؤنڈیشن نے ادا کئے۔لائبریری کے انتظامات کو چلانے کیلئے ایک کمیٹی مقرر ہے۔اس کمیٹی کے حضرت خلیفہ امسیح الرابع نے درج ذیل فرائض متعین فرمائے ہیں:۔لائبریری کی جملہ مالی اور انتظامی امور کی تمام تر ذمہ داری اس کمیٹی پر ہوگی۔جس طرح کمپنیوں کے بورڈ کام کرتے ہیں اسی طرح یہ کمیٹی کام کرے۔بجٹ بنائے۔سب کمیٹیوں کا تقرر کرے۔انتظام کو احسن رنگ میں چلانے کے لئے تجاویز زیر غور لائے اور ان سب امور پر عمل درامد کی ذمہ دار ہو۔لائبریرین اس کمیٹی کے ممبر ہوں گے اور کمیٹی کے تمام فیصلوں پر عملدرآمد کروانے کے پابند اور کمیٹی کے سامنے جواب دہ ہوں گے۔کمیٹی اپنے اجلاسات کی رپورٹیں آخری منظوری کے لئے مجھے بھجوادیا کرے گی۔“ ریز ولیشن صدرا انجمن احمد یه ۵ غ - م مورخه ۳ را گست ۱۹۸۳ء) خلافت لائبریری انتظامی لحاظ سے صدرانجمن احمد یہ کے تحت ہے۔اس لائبریری میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد کتب ہیں۔لائبریری میں کتب کی ترتیب بین الاقوامی ڈی۔ڈی سی سسٹم کے تحت مضامین کے اعتبار سے کی گئی ہے۔ترتیب اوپن شیلف ہے۔یعنی قارئین کو کتب تک براہ راست رسائی حاصل ہے جہاں سے اپنی پسند کی کتب تلاش کر سکتے ہیں۔لائبریری میں ڈکشنری کیٹلاگ بنایا گیا ہے۔مصنف ، عنوان اور مضمون کے تحت تین کارڈ بنائے جاتے ہیں۔ہر کتاب کے کیٹا لاگ کے لئے ALA کیٹلاگنگ رولز کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔لائبریری سے دو کتب پندرہ یوم کے لئے ایشو کی جاتی ہیں۔مطالعه کنندگان:۔قارئین کو لائبریری میں مطالعہ کی سہولت حاصل ہے۔مستورات کے لئے الگ جگہ کا انتظام کیا گیا ہے۔اور طلباء اور ریسرچ کرنے والوں کے لئے ریسرچ سیل بنائے گئے ہیں۔اخبارات کے مطالعہ کے لئے الگ جگہ پر انتظام کیا گیا ہے۔جہاں پر پندرہ کے قریب روزانہ اخبارات آتے ہیں۔اور