جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 202 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 202

202 ب:۔ہر ایسے معاملہ میں مشورہ دینا جس سے خزانہ پر بار پڑتا ہو لیکن منظور شدہ بجٹ میں سے کوئی رقم پیشگی منظور کرنا اس سے مستفی ہوتا ہے۔ج:۔اخراجات پر نگاہ رکھنا اور مالی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے بر وقت اس کے متعلق صدر انجمن احمد یہ میں رپورٹ کرنا۔د: ہر قسم کے مشترکہ محکمانہ فارم تجویز کرنا۔ھ :۔آمد و خرچ کے حساب و کتاب رکھنے کا طریق تجویز کرنا۔و۔دیگر ہر قسم کے مالی و حسابی کام کے متعلق مشورہ دینا۔۔اس کمیٹی کے چار ممبر ہوتے ہیں۔ناظر بیت المال خرچ، ناظر بیت المال آمد، محاسب اور آڈیٹر۔اس کمیٹی کا صدر ناظر بیت المال خرچ اور سیکرٹری محاسب ہوتا ہے۔قورم تین ممبران کا ہوتا ہے۔( قاعدہ نمبر ۵۹) ۴۔ناظر بیت المال خرچ یا اس کے قائمقام کی عدم موجودگی میں ناظر بیت المال آمد کمیٹی محاسبہ و مال کے اجلاس کی صدارت کرتا ہے۔( قاعدہ نمبر ۶۰) ۵۔اس کمیٹی کو تمام مشورہ طلب امور میں صرف مالی و حسابی نگاہ سے رائے دینے کا اختیار ہوتا ہے۔انتظامی پہلو سے دخل نہیں دے سکتی۔( قاعدہ نمبر ۶۱)۔کمیٹی کا فرض ہوتا ہے کہ اگر کوئی ایسا حسابی و مالی معاملہ اس کے نوٹس میں آئے جس میں سلسلہ کے مفاد میں رائے دینی مناسب ہو تو وہ از خود اپنی رائے صدر انجمن احمدیہ کو ارسال کر سکتی ہے۔( قاعدہ نمبر ۶۲) انتظامی میٹی ا۔صدر انجمن احمدیہ کے ماتحت ایک کمیٹی ہوتی ہے۔جس کا نام انتظامیہ کمیٹی ہوتا ہے۔اس کمیٹی کا کام انتظامی امور میں صدر انجمن احمدیہ کی طرف سے مفوضہ معاملات میں مشورہ دینا ہوتا ہے مثلاً استقلال کارکنان ، رخصت کارکنان ، نئی آسامی کا قیام وغیرہ۔( قاعدہ نمبر ۶۳) ۲۔اس کمیٹی کے درج ذیل ممبران ہوتے ہیں۔( قاعدہ نمبر ۶۴) ا۔ناظر دیوان (صدر) ۲۔ناظر تعلیم ۳۔ناظر امور عامه ۳۔اس کمیٹی کے ذمہ ان دیگر امور کے بارہ میں بھی رپورٹ کرنا ہوتا ہے جو صدرانجمن احمدیہ کی طرف سے اس کے سپر د کئے جائیں۔( قاعدہ نمبر ۶۵)