جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 155
155 نے اپنی ۱۰ را گست ۱۹۲۴ء کی اشاعت میں بعنوان ” مہدی دمشق میں لکھا جس کا ترجمہ یہ ہے کہ :۔”جناب احمد قادیانی صاحب ہندوستان میں مہدی کے خلیفہ اپنے بڑے بڑے مصاحبین سمیت جو آپ کی جماعت کے بعض بڑے بڑے علماء ہیں دارالخلافہ میں تشریف لائے۔ابھی آپ کے دارالخلافہ میں تشریف لانے کی خبر شائع ہی ہوئی تھی کہ بہت سے علماء و فضلاء آپ کے ساتھ گفتگو کرنے اور آپ کی دعوت کے متعلق آپ سے مناظر و مباحثہ کرنے کے لئے آپ کی خدمت میں پہنچ گئے۔اور انہوں نے آپ کو نہایت عمیق ریسرچ رکھنے والا عالم اور سب مذاہب اور ان کی تاریخ و فلسفہ کا گہرا مطالعہ رکھنے والا شریعت الہیہ کی حکمت و فلسفہ سے واقف شخصیت پایا۔حضرت مصلح موعود کی تالیف و تصنیفات کی تعداد تقریباً اڑھائی صد ہے۔جن کی تفصیل سوانح فضل عمر کی جلد ۴ ص ۴۷۲ تا ۴۹۶ پر دیکھی جاسکتی ہے۔حضرت مصلح موعودؓ کی تصنیفات کا دائرہ نہایت وسیع ہے۔آپ نے اخلاقیات اور روحانیات کے مختلف پہلوؤں پر بصیرت افروز کتب لکھیں اور آپ ہی کے عقدہ کشا قلم نے عمرانیات، سیاسیات اور اقتصادیات کے پیچیدہ مسائل کی گرہیں بھی کھولی ہیں۔آپ شاعر اور ادیب بھی تھے اور مترجم و مفسر قرآن بھی۔نیز آپ اعلیٰ درجہ کے مقر ر اور خطیب تھے۔آپ کی تقریریں اور خطبات بھی منظم و مرتب کتابوں کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔حضرت مصلح موعودؓ کی زندہ جاوید اور دل آویز تصانیف سرچشمہ علم و عرفان ہیں۔جو موجودہ و آئندہ نسلوں کیلئے قیامت تک مشعل راہ کا کام دیں گی۔حضور خود فرماتے ہیں :۔وہ کون سا اسلامی مسئلہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ اپنی تمام تفاصیل کے ساتھ نہیں کھولا۔مسئله نبوت، مسئله کفر، مسئله خلافت، مسئله تقدیر، قرآنی ضروری امور کا انکشاف، اسلامی اقتصادیات، اسلامی سیاسیات اور اسلامی معاشرے وغیرہ پر تیرہ سو سال سے کوئی وسیع مضمون نہیں تھا۔مجھے خدا نے اس خلافت را شده ص ۲۵۵،۲۵۴) خدمت کی توفیق دی۔“ ذیل میں نمونہ کے طور پر حضور کی صرف چند کتب کے نام پیش ہیں:۔ا تفسیر کبیر ۲ تفسیر صغیر ۳۔دعوۃ الامیر ۴ تحفۃ الملوک، ۵۔حقیقۃ النبوۃ ،۶۔سیر روحانی، ۷۔انقلاب حقیقی، - فضائل القرآن، ۹۔احمدیت کا پیغام، ۱۰۔کلام محمود، اا۔احمدیت یعنی حقیقی اسلام ،۱۲۔ہندوستان کے سیاسی مسائل کا حل، ۱۳۔ہستی باری تعالی، ۱۴۔ملا لگتہ اللہ ۱۵۔دیباچہ تفسیر القرآن ، ۱۶۔احمدیت کا پیغام ۱۷۔تقدیر الہی ، ۱۸۔خلافت را شده ۱۹۔نظام نو ۲۰۔اسلام کا اقتصادی نظام،۲۱۔عرفان الہی۔