جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 134
134 ج۔نئے خلیفہ کا انتخاب مناسب انتظار کے بعد چوبیس گھنٹے کے اندر اندر ہونا چاہئے۔مجبوری کی صورت میں زیادہ سے زیادہ تین دن کے اندر انتخاب ہونالازمی ہے۔اس درمیانی عرصہ میں صدرانجمن احمد یہ پاکستان جماعت کے جملہ کاموں کو سر انجام دینے کی ذمہ دار ہوگی۔د۔اگر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی زندگی میں نئے خلیفہ کے انتخاب کا سوال اٹھے تو مجلس انتخاب خلافت کے اجلاس کے وہ پریذیڈنٹ ہوں گے۔ورنہ صدرانجمن حد یہ اور تحر یک جدید کے اس وقت کے سینیئر ناظر یا وکیل اجلاس کے پریذیڈنٹ ہوں گے۔(ضروری ہے کہ صدر انجمن احمد یہ اور تحریک جدید فوری طور پر مشترکہ اجلاس کر کے ناظروں اور وکلاء کی سینیارٹی فہرست مرتب کر لے ) ھ - مجلس انتخاب خلافت کا ہر رکن انتخاب سے پہلے یہ حلف اٹھائے گا کہ:۔۔میں اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر اعلان کرتا ہوں کہ میں خلافت احمدیہ کا قائل ہوں اور کسی ایسے شخص کو ووٹ نہیں دوں گا جو جماعت مبائعین میں سے خارج کیا گیا ہو یا اس کا تعلق احمدیت یا خلافت احمدیہ کے مخالفین سے ثابت ہو“۔جب خلافت کا انتخاب عمل میں آجائے تو منتخب شدہ خلیفہ کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ لوگوں سے بیعت لینے سے پہلے کھڑے ہو کر قسم کھائے کہ :۔میں اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر کہتا ہوں کہ میں خلافت احمدیہ پر ایمان رکھتا ہوں اور میں ان لوگوں کو جو خلافت احمدیہ کے خلاف ہیں باطل پر سمجھتا ہوں اور میں خلافت احمدیہ کو قیامت تک جاری رکھنے کی پوری کوشش کروں گا اور اسلام کی تبلیغ کو دنیا کے کناروں تک پہنچانے کے لئے انتہائی کوشش کرتا رہوں گا اور میں ہر غریب اور امیر احمدی کے حقوق کا خیال رکھوں گا اور قرآن شریف اور حدیث کے علوم کی ترویج کے لئے جماعت کے مردوں اور عورتوں میں ذاتی طور پر بھی اور اجتماعی طور پر بھی کوشاں رہوں گا“۔ز۔اوپر کے قواعد کے مطابق صحابہ اور نمائندگان جماعت جن میں امراء اضلاع سابق وحال بھی شامل ہیں کی تعداد ڈیڑھ سو سے زیادہ ہو جائے گی۔ان میں خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے افراد کی تعداد اتنی قلیل رہ جاتی ہے کہ منتخب شدہ ممبروں کے مقابلہ میں اس کی کوئی حیثیت ہی باقی نہیں رہتی۔ہاں خلیفہ وقت کا انتخاب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان کے افراد اور جماعت کے ایسے مخلصین میں۔ہو سکے گا جو مبائعین ہوں اور جن کا کوئی تعلق غیر مبائعین یا احرار وغیرہ دشمنان سلسلہ احمدیہ سے نہ ہو ( یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس وقت تک ایسے مخلصین کی تعداد لاکھوں تک پہنچ چکی ہے )