جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 132
132 شائع کر دی گئی۔( بحوالہ تاریخ احمدیت جلد ۴ نیا ایڈیشن صفحہ نمبر ۲۰۹ تا ۲۱۱) اس کے بعد دسمبر ۱۹۵۶ء میں حضور نے دوبارہ فتنہ خلافت کے پیش نظر مذکورہ بالا قواعد میں ترمیم فرمائی اور اپنی ہدایات کی روشنی میں علماء سلسلہ کی ایک کمیٹی مقرر کر کے ازسرنو انتخاب خلافت کے قواعد وضع کروائے۔جنہیں مجلس شوری میں ریزولیشن کی صورت میں پیش کر کے ممبران شوری کی تائید حاصل کی گئی۔یہ ریزولیوشن حسب ذیل ہے۔بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم انتخاب خلافت کے متعلق ایک ضروری ریزولیوشن تمہید :۔سید نا حضرت امیر المومنین خلیفہ اسی الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جلسہ سالانہ۱۹۵۶ء کے موقعہ پر آئندہ خلافت کے انتخاب کے متعلق یہ بیان فرمایا تھا کہ پہلے یہ قانون تھا کہ مجلس شوری کے ممبران جمع ہو کر خلافت کا انتخاب کریں۔لیکن آجکل کے فتنہ کے حالات نے ادھر توجہ دلائی ہے کہ تمام ممبران شوری کا جمع ہونا بڑا لمبا کام ہے۔ہوسکتا ہے کہ اس سے فائدہ اٹھا کر منافق کوئی فتنہ کھڑا کر دیں۔اس لئے اب میں یہ تجویز کرتا ہوں کہ جو اسلامی شریعت کے عین مطابق ہے کہ آئندہ خلافت کے انتخاب میں مجلس شوری کے جملہ ممبران کی بجائے صرف ناظران صدر انجمن احمد یہ ممبران صدر انجمن احمدیہ، وکلاء تحریک جدید، خاندان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زندہ افراد جن کی تعداد اس غرض کے لئے اس وقت تین ہے۔یعنی حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب، حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب اور حضرت نواب میاں عبداللہ خان صاحب) جامعتہ المبشرین کا پرنسپل، جامعہ احمدیہ کا پرنسپل اور مفتی سلسلہ احمد بیل کر فیصلہ کیا کریں۔مجلس انتخاب خلافت کے اراکین میں اضافہ جلسہ سالانہ ۵۶ ء کے بعد حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی نے علماء سلسلہ اور دیگر بعض صاحبان کے مشورہ کے مطابق مجلس انتخاب خلافت میں مندرجہ ذیل اراکین کا اضافہ فرمایا:۔ا۔مغربی پاکستان کا امیر اور اگر مغربی پاکستان کا ایک امیر مقرر نہ ہو تو علاقہ جات مغربی پاکستان کے امراء جو اس وقت چار ہیں۔