جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 131 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 131

131 دلائی جاوے کہ وہ آزاد پیشہ ہو کر خدمت دین کر سکیں۔جہاں تک ہو سکے لڑکوں کو حفظ قرآن کرایا جاوے۔باقی حضرت مسیح موعود اور حضرت خلیفتہ المسیح الاول کی وصیتیں میں پھر اس شخص کو اور جماعت کو یاد دلاتا ہوں۔جو کام حضرت مسیح موعود نے جاری کئے ہیں کسی صورت میں ان کو بند نہ کیا جاوے ہاں ان کی صورتوں میں کچھ تغیر ہوتو ضرورتوں کے مطابق خلیفہ کو اختیار ہے اس قسم کا انتظام آئندہ انتخاب خلفاء کے لئے بھی وہ شخص کر دے۔اللہ تعالیٰ اس شخص کا حافظ حامی اور ناصر ہو اس شخص کو چاہئے کہ اگر وہ دین کی ظاہری تعلیم سے واقف نہیں تو اس کو حاصل کرے دعاؤں پر بہت زور دے ہر بات کرتے وقت پہلے سوچ لے کہ آخر انجام کیا ہوگا ؟ کسی کا غصہ دل میں نہ رکھے خواہ کسی سے کسی قدر ہی اس کو ناراضگی ہو۔اس کی خدمات کو کبھی نہ بھلائے۔ان لوگوں کے اسماء جن کو میں خلیفہ کے متعلق مشورہ کرنے کے لئے مقرر کرتا ہوں۔یہ ہیں:۔(۱) نواب محمد علی خان صاحب۔(۲) ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب۔(۳) مولوی شیر علی صاحب۔(۴) مولوی سید سرور شاہ صاحب۔(۵) قاضی سید امیر حسین صاحب۔(۶) چوہدری فتح محمد صاحب سیال۔(۷) حافظ روشن علی صاحب۔(۸) سید حامد شاہ صاحب۔(۹) میاں چراغ دین صاحب۔(۱۰) ذوالفقار علی خاں صاحب۔اگر بیرونی لوگ شامل نہ ہو سکیں تو پھر یہیں کے لوگ فیصلہ کریں۔خلیفہ وہی شخص ہو سکتا ہے جو قادیان میں رہے جو خود نماز میں پڑھائے۔یہ ضروری ہدایت یا درکھی جائے کہ یہ لوگ اس بات کا اختیار رکھیں گے کہ اپنے میں سے کسی شخص کو انتخاب کریں یا کسی ایسے شخص کو جس کا نام فہرست میں شامل نہیں ایک نام اس میں اور زیادہ کر دیا جاوے۔میاں بشیر احمد صاحب بھی اس میں شامل ہیں۔والسلام۔اگر صدر جلسہ خو خلیفہ تجویز ہو تو جوالفاظ خلیفہ کی بیعت کے لئے رکھے گئے ہیں ان کا وہ خود حلفیہ طور پر مجلس میں اقرار کرے۔خدا کے فضلوں کا انکار کوئی نہیں کر سکتا۔خلیفہ خدا بناتا ہے۔پس اس شخص کو جس کے لئے لوگ متفق ہوں خلافت سے انکار نہیں کرنا چاہئے۔ہاں مشورہ دینے والوں کو بھی اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ یسے شخص کو منتخب کریں کہ وہ قادیان کا ہی ہو کر رہ سکے اور جماعت کراسکتا ہو۔والسلام واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین ( دستخط ) خاکسار مرزا محمود احمد دستخط خاکسار شیر علی عفی عنہ بقلم خود کا تب تحریر ہذا۔۱/۱۹ اکتوبر ۱۹۱۸ء۔دستخط فتح محمد سیال بقلم خود دستخط خاکسار مرزا بشیر احمد بقلم خود ۱۹/۱۰/۱۸ - دستخط محمد سرور شاہ بقلم خود ۱۹ اکتوبر ۱۹۱۸ء۔دستخط خلیفہ رشید الدین ایل۔ایم۔ایس بقلم خود ۱۹ را کتوبر ۱۹۱۸ء۔(نوٹ ) یہ کاغذ مولوی شیر علی صاحب کی تحویل میں رکھا جاوے اور اس کی نقل فورا شائع کر دی جاوے۔( دستخط ) مرز امحموداحمد“۔حضور کے ارشاد کی تعمیل میں دوسرے ہی روز یہ وصیت دفتر ترقی اسلام کے میگزین پریس قادیان سے