جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 576
576 بھی خدمات کی سعادت حاصل ہوئی۔حضرت خلیفہ امسیح الثالث نے مقام نعیم پر فائز مربیان میں آپ کا تذکرہ فرمایا۔جنوری ۲۰۰۱ء کو ۷۹ سال کی عمر میں وفات پائی اور بہشتی مقبرہ ربوہ میں دفن ہوئے۔۱۶ محترم مولانا محمد منور صاحب آپ ۱۳ / فروری ۱۹۲۲ء کو پیدا ہوئے۔۱۹۴۲ء میں زندگی وقف کی۔۱۹۴۸ء تا ۱۹۸۳ء مشرقی افریقہ کے ممالک تنزانیہ اور کینیا جبکہ مغربی افریقہ میں نائیجیریا میں خدمت کی توفیق ملی۔انگریزی، فارسی ، سواحیلی اور مشرقی افریقہ کی لوکل زبانوں کے ماہر تھے۔سواحیلی ترجمہ قرآن میں معاونت کی توفیق ملی۔تنزانیہ سے نکلنے والے جماعتی اخبار کے سالہا سال ایڈیٹر رہے۔تنزانیہ کی آزادی کے بعد تنزانیہ کے پہلے امیر و مشنری انچارج مقرر ہوئے۔۱۸/ نومبر ۱۹۹۵ء کو وفات پائی اور بہشتی مقبرہ ربوہ میں دفن ہوئے۔بیرونی ممالک کے پہلے مبلغین 6☑ مختلف ممالک میں پہلے مبلغین کی فہرست پیش کرنے سے قبل یہ وضاحت کرنا ضروری ہے کہ دنیا کے جتنے ممالک میں جماعت احمدیہ کے مبلغین پہنچے ان میں سے کسی ملک کا پہلا مبلغ اسے ہی شمار کیا گیا ہے جس کے ذریعہ اس ملک میں احمدیت کا پیغام پہنچا۔خواہ وہ مبلغ وہاں عارضی طور پر گیا تھا یا کسی دوسرے ملک میں جاتی دفعہ سفر کے دوران وہاں کچھ عرصہ کے لئے قیام کیا ہو جیسے کہ حضرت مولانا صوفی غلام محمد صاحب بی۔اے ۱۹۱۵ء میں قادیان سے ماریشس کے لئے عازم سفر ہوئے مگر وہاں پہنچنے سے قبل ان کو سری لنکا میں بھی کچھ عرصہ قیام کر کے وہاں دعوت الی اللہ کرنے کا موقع ملا۔مگر سری لنکا میں باقاعدہ مبلغ کے طور پر وہاں ۱۹۵۱ء میں مکرم مولانا محمد اسمعیل منیر صاحب مرحوم کو بھجوایا گیا۔ایسی صورت میں سری لنکا کے پہلے مبلغ مکرم مولا نا حضرت صوفی غلام محمد صاحب کو ہی پہلا مبلغ شمار کیا گیا ہے۔کیونکہ سری لنکا میں سب سے پہلے حضرت مولانا صوفی غلام محمد صاحب کے ذریعہ سے ہی احمدیت کا پیغام پہنچا۔اسی طرح حضرت مولانا عبدالرحیم نیر صاحب کو انگلستان سے نائیجیریا کے لئے بھجوایا گیا۔مگر آپ نائیجیریا پہنچنے سے پہلے کچھ کچھ عرصہ کے لئے سیرالیون اور گھانا میں بھی مقیم رہے اور وہاں پیغام پہنچایا اور بعد میں نائیجیریا میں پہنچے اس لئے سیرالیون اور گھانا کے پہلے مبلغ بھی حضرت مولانا عبدالرحیم نیر صاحب کو ہی قرار دیا گیا ہے۔اسی طرح حضرت مولانا ظہور حسین بخارا صاحب ۱۹۲۴ء میں بطور مبلغ سلسلہ ازبکستان جو اس وقت