جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 571
571 مولوی صاحب سلسلہ عالیہ احمدیہ کے ایک تاریخی مبلغ تھے۔آپ کو ۱۹۲۴ ء میں سیدنا حضرت مصلح موعود نے بخارا وغیرہ کے علاقے میں تبلیغ کے لئے بھیجا جہاں آپ کو قید کر لیا گیا۔وہاں پر آپ تقریباً دو سال قید رہے اور قید خانوں کی سختیاں اٹھا کر بھی تبلیغ دین کا فریضہ ادا کیا اور کئی لوگوں کے قبول حق کا باعث بنے۔آپ نے اس تبلیغ کی نہایت ایمان افروز رو داد آپ بیتی کے نام سے لکھی جو شائع ہو چکی ہے۔بعد ازاں واپس آکر سلسلہ عالیہ احمدیہ کی خدمت جاری رکھی۔ارتداد کے خلاف جہاد میں خدمات انجام دیں۔جامعہ احمدیہ کے پروفیسر رہے، پھر چیف انسپکٹر بیت المال رہے اور انچارج شعبہ رشتہ ناطہ کے فرائض بھی سرانجام دیئے۔آپ نے بخارا کے علاقے میں جس جانفشانی سے تبلیغ دین کا فریضہ ادا کیا اس کا ذکر سید نا حضرت مصلح موعود نے تھے۔۔لاہور میں پیشگوئی مصلح موعود کے مصداق ہونے کے جلسہ میں ۱۰؍ مارچ ۱۹۴۴ء کوفر مایا۔مولوی ظہور حسین صاحب۔۔۔۔۔۔۔جب انہوں نے مولوی فاضل پاس کیا تو اس وقت لڑکے ہی میں نے کہا جاؤ گے تو پاسورٹ نہیں ملے گا۔کہنے لگے بے شک نہ ملے۔میں بغیر پاسپورٹ کے ہی اس ملک میں تبلیغ کے لئے جاؤں گا۔آخر وہ گئے اور دو سال جیل میں رہ کر انہوں نے بتایا کہ خدا نے کیسے کام کرنے والے مجھے دیئے ہیں۔خدا نے مجھے وہ تلوار میں بخشی ہیں جو کفر کو ایک لمحہ میں کاٹ کر رکھ دیتی ہیں۔خدا نے مجھے وہ دل بخشے ہیں جو میری آواز پر ہر قربانی کرنے کے لئے تیار ہیں۔میں انہیں سمندر کی گہرائیوں میں چھلانگ لگانے کے لئے کہوں تو وہ تیار ہیں۔میں انہیں پہاڑوں کی چوٹیوں سے اپنے آپ کو گرانے کے لئے کہوں وہ پہاڑوں کی چوٹیوں سے اپنے آپ کو گرا دیں۔میں انہیں جلتے ہوئے تنوروں میں کود جانے کا حکم دوں تو وہ جلتے ہوئے تنوروں میں کود کر دکھا دیں۔اگر خود کشی حرام نہ ہوتی۔اگر خود کشی اسلام میں ناجائز نہ ہوتی تو میں اس وقت تمہیں یہ نمونہ دکھا سکتا تھا کہ جماعت کے سو آدمی کو میں اپنے پیٹ میں خنجر مار کر ہلاک ہو جانے کا حکم دیتا اور وہ سو آدمی اسی وقت اپنے پیٹ میں خنجر مار کر مر جاتا۔“ الفضل ۱۸فروری ۱۹۸۵ء میں ص ۱۷ آخری کالم ) حضرت مولوی صاحب مورخہ 2 فروری ۱۹۸۲ء کو وفات پا کر اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو گئے۔۶۔حضرت مولانا رحمت علی صاحب رئیس التبلیغ انڈونیشیا حضرت مولانا رحمت علی صاحب نے پچیس سال تک انڈو نیشیا میں اسلام اور احمدیت کی تبلیغ واشاعت کا سرفروشانہ جہاد کیا اور حق وصداقت کے ساتھ انڈونیشیا ( جزائر شرق الہند) میں ہزاروں فدائی و شیدائی پیدا کر دیئے۔آپ مورخه ۱۲ را گست ۱۹۲۵ء کو قادیان سے انڈونیشیا کے لئے روانہ ہوئے۔اور ستمبر ۱۹۲۵ء میں اس