جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 126
126 خلیفه راشد وہ شخص ہے جو منصب امامت رکھتا ہو اور سیاست ایمانی کے معاملات اس سے ظاہر ہوں۔جو اس منصب تک پہنچا وہی خلیفہ راشد ہے۔خواہ زمانہ سابق میں ظاہر ہوا خواہ موجودہ زمانے میں ہو۔خواہ اوائل امت میں ہو خواہ اس کے آخر میں۔۔۔اور اسی طرح یہ بھی نہ سمجھ لینا چاہئے کہ لفظ ” خلفائے راشد خلفائے اربعہ کی ذات سے خصوصیت رکھتا ہے کہ اس لفظ کے استعمال سے انہی لوگوں کی ذات متصور ہوتی ہے۔منصب امامت ص ۱۳۷۔ایڈیشن دوم نقوش پریس لاہور ) پس اس تعریف کی رو سے خلافت احمدیہ بھی ” خلافت راشدہ ہی ہے کیونکہ آخری زمانہ میں قائم ہونے والی خلافت کے لئے ہی خلافت علی منہاج النبوۃ کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں اور آخری زمانہ میں قائم ہونے والی خلافت علی منہاج النبوۃ سے مراد خلافت احمدیہ ہی ہے۔کیونکہ آخری زمانے کی قرآن کریم اور احادیث میں بیان فرمودہ تمام آیات و علامات پوری ہو چکی ہیں۔لہذا یہی آخری زمانہ ہے اور خلافت احمد یہ ہی قیامت سے ماقبل قائم ہونے والی خلافت علی منہاج النبوت ہے۔پس خلافت احمد یہ بھی خلافت راشدہ ہی ہے۔خلافت کو قدرت ثانیہ نام دینے کا فلسفہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خلافت کو قدرت ثانیہ کے نام سے کیوں موسوم فرمایا؟ اس کی وضاحت میں حضرت مصلح موعودؓ نے ارشاد فرمایا کہ:۔”نبی کی دو زندگیاں ہوتی ہیں ایک شخصی اور ایک قومی اور اللہ تعالی ان دونوں زندگیوں کو الہام سے شروع کرتا ہے۔نبی کی شخصی زندگی تو الہام سے اس طرح شروع ہوتی ہے کہ جب وہ تھیں یا چالیس سال کا ہوتا ہے تو اسے کہا جاتا ہے کہ تو مامور ہے۔نبی کی قومی زندگی الہام سے اس طرح شروع ہوتی ہے کہ جب وہ وفات پاتا ہے تو کسی بنی بنائی سکیم کے ماتحت اس کے بعد نظام قائم نہیں ہوتا بلکہ یکدم ایک تغیر پیدا ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ کا مخفی الہام قوم کے دلوں کو اس نظام کی طرف متوجہ کر دیتا ہے۔اسی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کا نام قدرت ثانیہ رکھا ہے۔خلافت راشدہ ص ۶۲۶۱ - تقریر حضرت مصلح موعود ۱۹۳۹ء۔انوار العلوم جلد ۱۵ شائع کردہ فضل عمر فاؤنڈیشن ربوہ)