جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 30
30 وو مرحوم ایک مانے ہوئے مصنف اور مرزائی (احمدی) فرقہ کے بانی تھے آپ کی پیدائش ۱۸۴۰ء۱۸۳۹٫ء میں ہوئی آپ نے علوم شرقیہ میں کمال حاصل کیا۔اپنی زندگی کے آخری دن تک کتابوں کے عاشق رہے اور دنیوی پیشوں سے پر ہیز کرتے رہے۔۱۸۷۴ء تا ۱۸۷۶ ء عیسائیوں، آریوں، برہموؤں کے خلاف شمشیر قلم خوب چلایا۔آپ نے ۱۸۸۰ء میں تصنیف کا کام شروع کیا۔آپ کی پہلی تصنیف ( براہین احمدیہ ) اسلام کے ڈیفینس میں تھی جس کے جواب کے لئے آپ نے دس ہزار روپے کا انعام رکھا۔آپ نے انیسویں صدی کے لئے مسیح ہونے کا دعویٰ کیا۔۱۸۸۹ء میں بیعت لینی شروع کی۔آپ نے اپنی تصنیف کردہ اتنی کتابیں پیچھے چھوڑیں جن میں سے ہیں عربی زبان میں ہیں بے شک مرحوم اسلام کا ایک بڑا پہلوان تھا۔“ علی گڑھ انسٹیٹیوٹ گزٹ ۱۹۰۸ء بحوالہ تشحید الا ذہان جلد ۳ نمبر ۸ صفحه ۳۲۲۔۱۹۰۸ء) حضرت اقدس بانی سلسلہ احمدیہ کے مشہور لیکچر اسلامی اصول کی فلاسفی“ کے متعلق اخبار جنرل وگوہر آصفی کلکتہ نے جلسہ مذاہب عالم لا ہور ۱۸۹۶ء کے اختتام پر لکھا:۔حق تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ اگر اس جلسہ میں حضرت مرزا صاحب کا مضمون نہ ہوتا تو اسلامیوں پر غیر مذاہب والوں کے رو برو ذلت و ندامت کا قشقہ لگتا ہے۔مگر خدا کے زبردست ہاتھ نے مقدس اسلام کو گرنے سے بچالیا۔بلکہ اس کو مضمون کی بدولت فتح نصیب ہوئی۔“ ( اخبار جنرل وگو ہر آصفی کلکته مورخ ۲۴ / جنوری ۱۸۹۷ء صفحه ۷ )