جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 588 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 588

588 ۱۹۲۱ء میں بی اے کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد آپ شملہ میں ملازم ہو گئے لیکن ڈیڑھ سال بعد ہی استعفی دے کر لاء کالج میں داخلہ لے لیا اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے توجہ دلانے پر آپ نے قانون کا امتحان پاس کیا۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے حکم کے مطابق ۲ جنوری ۱۹۲۶ء کو آپ نے گورداسپور میں وکالت کی پریکٹس شروع کردی۔حضرت مرزا صاحب کو خدا تعالیٰ کے فضل سے چار خلفاء کے ساتھ عقیدت ومحبت کا تعلق تھا۔مجالس شوریٰ میں شرکت جماعت احمدیہ کی مرکزی مجالس شوری میں شرکت کا حضرت مرزا عبدالحق صاحب کو ایک منفرد اعزاز حاصل ہے۔جو کسی اور فرد جماعت کے حصے میں نہیں آیا۔۱۹۲۲ء میں جب مجلس مشاورت کا آغاز ہوا تو آپ شملہ جماعت کے ممبر تھے وہاں سے آپ جماعتی نمائندہ کے طور پر شوری میں شامل ہوئے۔اس کے بعد آ با قاعدگی سے مجالس شوری میں شرکت کرتے رہے۔ایک دو سالوں کی مجالس شوری کے علاہ آپ کو اب تک ہونے والی تمام مجالس شوریٰ میں شرکت کا اعزاز حاصل ہے۔آپ کو حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کے دور میں اور بعد میں بھی متعدد بار مجالس شوریٰ کی صدارت کا شرف حاصل ہوا۔علمی وتحقیقی خدمات حضرت مرزا عبدالحق صاحب کو خدا تعالیٰ نے فہم قرآن اور تحقیق و تدقیق کا ملکہ عطا فرمایا تھا۔جلسہ سالانہ کے موقع پر خطابات، تقاریر، مختلف اخبارات ورسائل میں شائع ہونے والے مضامین تحقیقی کتب جو ٹھوس علمی موضوعات پر مشتمل ہیں۔آپ کی محنت کا نچوڑ ہیں۔حضرت مرزا عبدالحق صاحب کی تصانیف مندرجہ ذیل ہیں:۔۱۔تنویر القلوب۔تین حصص ۲۔صداقت حضرت مسیح موعود (اس کتاب کے متعلق ایک بزرگ نے حضرت مرزا عبدالحق صاحب کو لکھا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے کہ میں نے یہ کتاب اپنے حضور قبول کر لی ہے۔)۳۔نزول وحی۔۴۔روح العرفان ۵۔صفات باری تعالی ۶۔بعث بعد الموت یا اخروی زندگی ے۔انڈکس کتب حضرت مسیح موعود خطبہ الہامیہ تک۔جہاد کی حقیقت ۹۔نزول مسیح ۱۰۔نوٹس قرآن کریم پر بنی غیر مطبوعہ قلمی نسخہ۔آپ نے قرآن کے تفسیری نوٹس تحریر کر کے چھ جلدوں پر مشتمل ایک قلمی نسخہ تیار کیا جس پر آپ کی سالہا سال کی محنت صرف ہوئی جو آپ کے عاشق قرآن ہونے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔