جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 572 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 572

572۔ملک میں داخل ہوئے۔انڈو نیشیا میں چار سال گزارنے کے بعد واپس قادیان تشریف لائے۔قادیان میں چند ماہ گزارنے کے بعد حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے حکم سے ۱۹۳۰ء میں دوبارہ انڈونیشیا میں تشریف لے گئے۔اس دفعہ 4 سال کی تبلیغی جدو جہد کے بعد ۱۹۳۶ء میں واپس عازم وطن ہوئے۔۱۹۳۷ء میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے سہ بارہ ارشاد کی تعمیل میں پھر انڈونیشیا چلے گئے۔مگر اس دفعہ دو سال بعد ۱۹۳۹ء میں خلافت ثانیہ کے سلور جوبلی کے موقع پر واپس قادیان آگئے اور تھوڑے ہی عرصہ کے بعد چوتھی مرتبہ انڈو نیشیا کے لئے عازم سفر ہوئے۔اس دفعہ تقریباً ۱۰ سال کے بعد ماہ مئی ۱۹۵۰ء میں وطن واپس تشریف لے آئے۔اس طرح آپ کو تقریباً ربع صدی (۲۵) سال تک انڈو نیشیا میں دعوت و تبلیغ اور احباب جماعت کی تعلیم و تربیت کا موقع ملا۔اور آپ نے اپنے آپ کو ایک نہایت کامیاب و بامراد مبلغ ثابت کیا۔جس کا اندازہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم رائے کی آپ کے بارہ میں اس تحریر سے ہوتا ہے۔حضرت خلیفہ اسیح کی مردم شناس آنکھ نے مولوی رحمت علی صاحب کو منتخب کیا۔مولوی صاحب مولوی فاضل تھے مگر سادہ مزاج رکھتے تھے اور بعض حلقوں میں خیال کیا جا تا تھا کہ شاید وہ اس نازک کام میں کامیاب نہ ہوسکیں مگر خدا کے فضل سے اور حضرت خلیفتہ امیج کی روحانی توجہ کے طفیل اس مشن نے حیرت انگیز رنگ میں ترقی کی اور بعض لحاظ سے دوسرے سب مشنوں کو مات کر گیا۔“ ( سلسلہ احمدیہ از قمر الانبیاء حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب مدظله العالی) حضرت مولوی رحمت علی صاحب ایک کامیاب مبلغ کے طور پر آخر دم تک خدمت سلسلہ بجا لاتے رہے۔اور بالآ خر ۳۱ اگست ۱۹۵۸ء کو آپ اپنے خالق حقیقی کے حضور حاضر ہوگئے اور بہشتی مقبرہ ربوہ میں دفن ہوئے حضرت حکیم فضل الرحمن صاحب براعظم افریقہ جانے والے دوسرے مربی سلسلہ حضرت حکیم فضل الرحمان صاحب ابن حضرت حافظ نبی بخش صاحب آف فیض اللہ چک نے عین جوانی میں اپنے آپ کو جماعتی خدمت کے لئے پیش کر دیا۔حضرت مصلح موعود کے حکم پر ۲۳ فروری ۱۹۲۲ء کو گولڈ کوسٹ (غانا) بھجوایا گیا جبکہ ابھی آپ کی شادی بھی نہیں ہوئی۔سات سال سے زائد عرصہ کے بعد ۱۹۲۹ء کو واپس آئے۔پھر شادی کے اڑھائی سال بعد ۱۹۳۳ء میں دوبارہ مغربی افریقہ بھجوایا گیا ور تقریباً ۱۵ سال بعد واپس آئے تو بچے جوان اور اہلیہ بوڑھی ہو چکی تھیں۔غانا کے بعد آپ نائیجیریا تشریف لے گئے۔۱۹۴۷ء میں مرکز واپس آئے۔افسر لنگر خانہ بھی رہے۔۱۹۵۵ء میں وفات پائی۔اور بہشتی مقبرہ ربوہ میں دفن ہوئے۔