جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 570
570 حضرت مولانا شمس صاحب نے آپ کا نام ان معاصر علماء میں دیا ہے جنہوں نے حضرت اقدس کی بیعت کر لی تھی۔۴۔حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب نیر مبلغ نائیجیریا آپ سرزمین افریقہ میں شمع احمدیت روشن کرنے والے پہلے مربی سلسلہ تھے۔۱۸۸۳ء میں جالندھر میں پیدا ہوئے۔۱۹۰۱ء میں حضرت مسیح موعود کی بیعت سے مشرف ہوئے اور پھر قادیان میں فروکش ہوکر خدمت دینیہ کا سلسلہ شروع کیا۔تعلیم الاسلام ہائی سکول کے استاد کے علاوہ اور بھی عہدوں پر کام کیا۔۱۵ جولائی ۱۹۱۹ ء کو حضرت چوہدری فتح محمد سیال صاحب کے ہمراہ انگلستان روانہ ہوئے اور پھر 9 فروری ۱۹۲۱ء کولندن سے مغربی افریقہ کے لئے تشریف لے گئے۔۱۹ / فروری کو سرزمین سیرا لیوان پہنچے یہاں پیغام احمدیت پہنچانے کے بعد ۲۸ فروری کو گولڈ کوسٹ (غانا) کی بندرگاہ پر اترے۔آپ کی دعوت الی اللہ سے فینٹی قبیلہ کے چیف مہدی آپاہ نے اپنے قبیلہ کے ہمراہ احمدیت میں شامل ہونے کا اعلان کیا۔آپ کے ذریعہ ہزاروں لوگوں کو قبول احمدیت کی سعادت ملی۔۸/ اپریل ۱۹۲۱ء کو آپ نائیجیر یا روانہ ہو گئے۔مشکل حالات میں قربانی کی توفیق ملی۔مرکز سلسلہ قادیان میں رہنے کے علاوہ مختلف شہروں میں دعوت الی اللہ کا موقع ملا۔قیام پاکستان کے بعد گوجرانوالہ آ گئے اورمئی ۱۹۴۸ء میں وفات پائی۔آپ بہشتی مقبرہ ربوہ کے قطعہ رفقاء میں مدفون ہیں۔مکرم مولوی ظہور حسین صاحب مبلغ بخارا مولوی صاحب سلسلہ عالیہ احمدیہ کی اولین باضابطہ مبلغین کلاس سے تین سالہ کورس پاس کرنے والے مبلغ تھے۔آپ کے ساتھیوں میں محترم مولانا جلال الدین صاحب شمس ، مولانا غلام احمد صاحب بدو ملی ، مولانا محمد شہزادہ خان صاحب مرحوم وغیرہ بزرگان شامل تھے۔ان سب اولین مبلغین سلسلہ نے حضرت حافظ روشن علی صاحب سے تعلیم حاصل کی تھی۔مولوی صاحب مرحوم مجلس خدام الاحمدیہ کے دس بانی ارکان میں سے تھے۔جنہوں نے یکم جنوری ۱۹۳۸ء کو حضرت مصلح موعود کی خصوصی اجازت سے مجلس خدام الاحمدیہ کی داغ بیل ڈالی۔نیز آپ ۳۹۔۱۹۳۸ء کے عرصے میں مجلس کے نائب صدر رہے۔گویا آپ مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے پہلے نائب صدر تھے۔تاریخ احمدیت جلد ہشتم ص ۴۴۷-۴۵۲)