جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 20
20 حضرت بانی سلسلہ احمدیہ مرزا غلام احمد صاحب قادیانی علیہ السلام کی تھی۔جن کو خدا تعالیٰ نے اس عظیم مشن کے لئے مامور فرمایا۔چنانچہ آپ نے اپنے مشن کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا:۔اگر تم ایماندار ہو تو شکر کے سجدات بجالاؤ کہ وہ زمانہ جس کا انتظار کرتے کرتے تمہارے بزرگ آباء گزر گئے اور بے شمار روحیں اس شوق میں سفر کر گئیں وہ وقت تم نے پالیا اب اس کی قدر کرنا یا نہ کرنا اور اس سے فائدہ اٹھانا یا نہ اٹھانا تمہارے ہاتھ میں ہے۔میں اس کو بار بار بیان کروں گا کہ میں وہی ہوں جو وقت پر اصلاح خلق کے لئے بھیجا گیا تادین کو تازہ طور پر دلوں میں قائم کر دیا جائے۔“ اسی طرح فرمایا: ” خدا تعالیٰ نے اس زمانہ کو تاریک پاکر اور دنیا کو غفلت اور کفر اور شرک میں غرق دیکھ کر اور ایمان اور صدق اور تقویٰ اور راستبازی کو زائل ہوتے ہوئے مشاہدہ کر کے مجھے بھیجا ہے کہ تاوہ دوبارہ دنیا میں علمی اور عملی اور اخلاقی اور ایمانی سچائی کو قائم کرے اور تا اسلام ان لوگوں کے حملہ سے بچائے جو فلسفیت اور نیچریت اور اباحت اور شرک اور دہریت کے لباس میں اس الہی باغ کو کچھ نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔سو اے حق کے طالبو! سوچ کر دیکھو کہ کیا یہ وقت وہی وقت نہیں ہے جس میں اسلام کے لئے آسمانی مدد کی ضرورت تھی۔کیا ابھی تک تم پر یہ ثابت نہیں ہوا کہ گزشتہ صدی میں جو تیرہویں صدی تھی کیا کیا صدمات اسلام پر پہنچ گئے اور ضلالت کے پھیلنے سے کیا نا قابل برداشت زخم ہمیں اٹھانے پڑے کیا ابھی تک تم نے معلوم نہیں کیا کہ کن کن آفات نے اسلام کوگھیرا ہوا ہے کیا اس وقت تم کو یہ خبر نہیں ملی کہ کس قدر لوگ اسلام سے نکل گئے کس قدر عیسائیوں میں جاملے کس قدر د ہر یہ اور طبعیہ ہو گئے اور کس قدر شرک اور بدعت نے تو حید اور سنت کی جگہ لے لی اور کس قدر اسلام کے رد کے لئے کتابیں لکھی گئیں اور دنیا میں شائع کی گئیں سو تم اب سوچ کر کہو کہ کیا اب ضرور نہ تھا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اس صدی پر کوئی ایسا شخص بھیجا جاتا جو بیرونی حملوں کا مقابلہ کرتا اگر ضرور تھا تو تم دانستہ نعمت الہی کو دمت کرو اور اس شخص سے منحرف مت ہو جاؤ جس کا آنا اس صدی پر اس صدی کے مناسب حال ضروری تھا اور جس کی ابتداء سے نبی کریم نے خبر دی تھی اور اہل اللہ نے اپنے الہامات اور مکاشفات سے اس کی نسبت لکھا تھا ذرہ نظر اٹھا کر دیکھو کہ اسلام کو کس درجہ پر بلاؤں نے مجبور کر لیا ہے اور کیسے چاروں طرف سے اسلام پر مخالفوں کے تیر چھوٹ رہے ہیں اور کیسے کروڑ ہا نفسوں پر اس زہر نے اثر کر دیا ہے یہ عملی طوفان یہ عقلی طوفان یہ فلسفی طوفان پی کر اور منصوبوں کا طوفان، بی فسق و فجور کا طوفان سیہ لالچ اور طمع دینے کا طوفان یہ اباحت اور دہریت کا طوفان یہ شرک و بدعت کا طوفان جو ہے ان سب طوفانوں کو ذرہ آنکھیں کھول کر دیکھو اور اگر طاقت ہے تو ان مجموعہ کلوفانات کی کوئی پہلے زمانہ