جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 550 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 550

550 خلیفہ ثانی سمجھتا ہوں۔باقاعدہ اور بے قاعدہ مولوی عبد الکریم صاحب ، حافظ روشن علی صاحب، مولوی سرورشاه صاحب، مولوی محمد اسمعیل صاحب اور حضرت خلیفہ اول سے عربی علوم پڑھنے کی کوشش کہ۔۱۹۱۰ء میں مولوی فاضل کا امتحان پاس کیا۔۱۹۱۲ء میں صدر انجمن احمد یہ قادیان کی ملازمت میں داخل ہوا۔جامعہ احمدیہ کے قیام سے قبل مدرسہ احمدیہ میں مدرس تھا۔اب جامعہ احمدیہ میں پڑھاتا ہوں۔اس ملازمت کے علاوہ بعض اور کام بھی خلافت ثانیہ میں سلسلہ کے سرانجام دینے کی کوشش کرتا ہوں۔حضرت مسیح موعود کے وجود سے جو شرف حاصل ہوئے وہ اس لئے لکھے ہیں کہ ابتداء ایسی اچھی ہے۔پڑھنے والے دعا کریں کہ انتہاء بھی ایسی ہی اچھی ہو۔عروسی بود نوبت ما تمت اگر بر نکوئی بود خاتمت خدمت سلسلہ حضرت میر صاحب مدرس مدرسہ احمدیہ۔استاذ الجامعہ قاضی سلسله ناظر دعوت و تبلیغ ، ناظر بیت المال، ناظر ضیافت - ممبر صدر انجمن احمدیہ، صدر مجلس ارشاد، افسر جلسہ سالانہ کے جلیل القدر عہدوں پر متمکن رہے۔اور جس محکمہ میں آپ کا تقرر ہوا۔آپ نے اس میں ایک نئی زندگی پیدا کر دی کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے اعلیٰ درجہ کی انتظامی صلاحیتوں سے بہرہ ور فرمایا تھا۔آپ سخت محنتی اور انتھک انسان تھے۔جن لوگوں نے قادیان دیکھا ہے وہ جانتے ہیں کہ حضرت میر صاحب جن دنوں دارالانوار میں رہتے تھے۔گرمیوں، سردیوں میں جامعہ احمد یہ جو قادیان کے ایک طرف تھا، پیدل جاتے تھے۔آپ وقت کی بہت پابندی فرماتے۔ہیڈ ماسٹر مدرسہ احمدیہ ۱۹۳۷ء میں جب شیخ عبدالرحمن صاحب مصری کو جماعت سے نکالا گیا۔تو جامعہ احمدیہ سے آپ کا تبادلہ بطور ہیڈ ماسٹر مدرسہ احمدیہ کیا گیا۔مدرسہ احمدیہ کی آخری دو کلاسوں کو حدیث ، فقہ جس میں علم میراث بھی تھا۔اور منطق آپ خود پڑھاتے تھے۔آپ کی آمد سے قبل مدرسہ کی عمارت کچی تھی۔آپ نے اس عمارت کے باہر کی طرف پکی اینٹیں لگوا کر اسے غلافی بنوایا اور اس پر سرخ رنگ کروا کر مدرسہ کی ہیئت ہی بدل دی۔مدرسہ کے اوپر ایک چوبارہ تھا جوان دنوں اردور یو یو کا دفتر تھا۔اس کی دیوار جو جامعہ کی طرف تھی اس پر خوش خط یہ دعا لکھوادی۔”اے ہمارے قادر مطلق خدا تو ہمیں عالم باعمل بنا دے۔اے ہمارے بچے بادشاہ تو ہمیں دنیا کے