جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 549
549 خدمت سلسلہ اور علم ان کی روح کی غذا تھی۔وہ جب تک جئے۔خدا اس کے رسول اور خدمت سلسلہ کے لئے جئے۔انہوں نے ساری زندگی زہد میں گزاری اور آخری سانس تک آپ نے اس عہد کو نبھا یا جو بیعت کے وقت ہم میں سے ہر ایک کرتا ہے کہ میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔“ خود نوشت سوانح اب میں آپ کے سوانح جو خود آپ نے رقم فرمائے درج کرتا ہوں۔یہ حالات جامعہ کے سالنامہ ۱۹۳۰ء میں پہلی بار شائع ہوئے :۔”میری پیدائش ۱۸ ستمبر ۱۸۹۰ء کو بمقام لدھیانہ ہوئی۔جہاں حضرت والد صاحب مرحوم سرکاری ملازم تھے۔غالبا ۱۸۹۴ء کے بعد سے مستقل سکونت قادیان میں ہے۔قیام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں آپ کے دار میں تھا۔بچپن سے اٹھارہ سال کی عمر تک حضرت مسیح موعود کے روز وشب کے حالات مشاہدہ میں آئے اور اب تک تقریباً اسی طرح ذہن میں محفوظ ہیں۔گورداسپور، بٹالہ، لاہور، سیالکوٹ اور دہلی کے سفروں میں ہمرکاب ہونے کا فخر حاصل ہے۔آخری بیماری کی ابتداء سے وصال تک حضرت جری اللہ فی حلل الانبیاء کے پاس رہا۔حضور نے متعدد مرتبہ مجھ سے لوگوں کے خطوط کے جوابات لکھوائے۔حقیقۃ الوحی کا مسودہ مختلف جگہ سے فرماتے گئے اور میں لکھتا گیا۔روزانہ سیر میں آپ کے ساتھ جاتا۔اور جانے کے اہتمام مثلاً قضاء حاجت وضو کا انصرام اور ہاتھ میں رکھنے کی چھڑی تلاش کر کے دینے سے سینکڑوں دفعہ مشرف ہوا۔آپ کی کتابوں میں بیسیوں جگہ میرا ذکر ہے۔آپ کے بہت سے نشانوں کا عینی گواہ ہوں اور بہت سے نشانوں کا مورد بھی ہوں۔جن دنوں حضور باہر مہمانوں کے ساتھ کھانا کھایا کرتے تھے۔دونوں وقت میں بھی شریک ہوتا تھا۔مجھے یاد ہے۔ہم عربی میں اسقـنـى الـمـاء کہہ کر پانی مانگا کرتے تھے۔بچپن میں بیسیوں دفعہ ایسا ہوا کہ حضور نے مغرب وعشاء اندر عورتوں کو جماعت سے پڑھائیں اور میں آپ کے دائیں طرف کھڑا ہوتا۔عورتیں پیچھے کھڑی ہوتیں۔غالباً میں پیدائشی احمدی ہوں۔نہایت چھوٹی عمر سے اب تک حضور کے دعاوی پر ایمان ہے۔آپ کے وصال کے بعد حضرت مولوی نورالدین صاحب کو دل سے صدیق اکبر اور سچا خلیفہ تسلیم کیا۔حضرت خلیفہ اول سے بچپن سے نہایت بے تکلفی اور محبت و پیار کا تعلق تھا۔ان کی وفات پر سچے دل سے صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب کو