جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 548
548 وَ المدن والمزن والرواسي والخير والامن والسكون لَمُ تتغيّر لنا الليالي حتّــى تــوقــاهـم الـمـنـون فكلّ جمر لنا قلوب فكـلّ مــالـنـاعيـون ترجمہ:۔ہائے افسوس ان لوگوں کی جدائی پر یہ چراغ راہ تھے یہ حصن حصین تھے۔ان سے شہر آباد تھے۔یہ رحمت خداوندی کے ابر تھے۔یہ بلند پہاڑ تھے۔یہ بھلائی ، امن اور سکینت کا باعث تھے۔جب موت نے ان کو آلیا۔دن بدل گئے۔اب دل انگارے ہو چکے ہیں اور آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگی ہوئی ہے۔حضرت میر صاحب کی وفات پر خلیفہ وقت حضرت مصلح موعود نے اسی گھر میں جہاں حضرت میر صاحب نے آخری سانس لیا تھا۔مغرب کی نماز کے بعد حضرت میر صاحب کی مثال حضرت حسن بصری اور اور جنید بغدادی سے دی۔آپ نے فرمایا۔اسی طرح ایک کے بعد ایک زمانہ کے لوگ گزرتے چلے گئے اور جب سارے گزر گئے تو کسی وقت عالم اسلام کے لئے حسن بصری اور جنید بغدادی کی وفات ایسے ہی صدمہ کا باعث تھی۔جیسے صحابہ کے لئے آنحضرت ﷺ کی وفات۔مگر یہ احساس نتیجہ تھا اس بات کا کہ حسن بصری اور جنید بغدادی جیسے لوگ مسلمانوں میں بہت شاذ پیدا ہوتے تھے۔اور ساری امت ہی حسن اور جنید ہوتی تو وہ درد اور چھن جو ان بزرگوں کی وفات پر بلند ہوئیں۔یوں بلند نہ ہوتیں۔“ (الفضل ۱۹؍ مارچ ۱۹۴۴ء ) آپ کے جان و تن عشق رسول کی خوشبو تھی جو حمد مصطفے ﷺ کا حقیقی عاشق تھا۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو علم دین سے بہرہ ور کیا تھا۔آنحضرت ﷺ کی حدیث ہے کہ اللہ تعالیٰ جس شخص کے متعلق بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اسے دین کی تفقہ عطا کرتا ہے۔حضرت میر صاحب کو جنہوں نے سنا ہے اور جنہوں نے آپ کے سامنے زانوئے تلمذ طے کئے ہیں۔وہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی جھولی اس خیر سے بھری تھی۔صلى الله عشق رسول عليه آنحضرت فردا نفسی ونفوس العالمین نے فرمایا۔تم میں سے کوئی اس وقت تک حقیقی مومن نہیں بن سکتا۔جب تک خدا کا رسول اسے اس کے ماں باپ اولا داور سب جہان سے زیادہ عزیز نہ ہوں۔( بخاری کتاب الایمان ) اور حضرت میر محمد الحق صاحب ان عشاق رسول میں سے تھے جن کا ذکر اس حدیث میں ہے۔