جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 535 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 535

535 صاحب وجد میں آگئے اور محویت کے عالم میں پنجابی میں کہا پا اے مائے پا یعنی اے محترمہ! اور راکھ ڈالو ( تا کہ حق کے راستہ میں اس قسم کے سلوک سے میں پوری طرح لطف اندوز ہوسکوں۔) سیالکوٹ میں ایک موقع پر حضرت اقدس کی رہائش گاہ پر واپس آتے ہوئے آپ بڑھاپے کے باعث پیچھے رہ گئے تو بعض شریروں نے آپ کی بے عزتی کی بلکہ پکڑ کر مٹی گوبر وغیرہ منہ میں ٹھونس دیا تو آپ پر پھر وجد کی کیفیت طاری ہوگئی اور فرمایا واہ بر ہانا ایہ نعمتاں کیتھوں“ یعنی برہان الدین یہ نعمتیں روز روز اور ہر شخص کو کہاں نصیب ہوتی ہیں۔آپ کے شاگرد: علم حدیث میں آپ کے بہت سے شاگرد ہوئے جن میں حضرت مولوی مبارک علی صاحب سیالکوٹی، حضرت مولوی عبدالرحمن صاحب کھیوال اور حضرت مولوی محمد قاری صاحب معروف تھے۔آپ کی وفات: آپ کی وفات سے قبل حضرت اقدس مسیح موعود کو الہام ہوا دو شہتیر ٹوٹ گئے؟“ انہیں دنوں حضرت مولوی عبدالکریم سیالکوٹی اور حضرت مولوی برہان الدین جہلمی کی وفات ہوئی۔آپ کی وفات ۳ دسمبر ۱۹۰۵ء کو ہوئی اور آپ کی تدفین جہلم کے قبرستان میں ہوئی۔مدرسہ احمدیہ کی بنیا دان ہر دوعلماء کی وفات کے بعد ان کی یاد میں اور نئے علماء پیدا کرنے کے لئے رکھی گئی۔حضرت اقدس کی کتب میں تذکرہ : حضرت اقدس نے حضرت مولوی صاحب کی وفات پر فرمایا ان کو ایک فقر کی چاشنی تھی۔قریباً بائیس برس سے میرے پاس آیا کرتے تھے۔پہلی دفعہ آئے تو میں ہوشیار پور میں تھا۔اس جگہ میرے پاس پہنچے۔ایک سوزش اور جذب ان کے اندر تھا اور ہمارے ساتھ ایک مناسبت رکھتے تھے۔“ آئینہ کمالات اسلام میں جلسہ کے شرکاء میں آپ کا بھی ذکر فرمایا ہے۔سراج منیر، تحفہ قیصریہ اور کتاب البریہ میں چندہ مہمان خانہ جلسہ ڈائمنڈ جوبلی اور پُر امن جماعت کے ضمن میں ذکر ہے۔اسی طرح ملفوظات میں مختلف رنگ میں بھی بار باذکر ہے۔ضمیمہ انجام آتھم میں آپ کا خدمت حضرت اقدس میں مصروف احباب میں ( بحواله ۳۱۳اصحاب صدق وصفاص ۱۳۰ تا ۱۳۲) نام درج ہے۔